تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 186
بندوں کو خدا تعالیٰ نے اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ ( الاعراف :۱۸۰) قرار دے کر چوپائیوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔انہی بندوں میں سے بعض کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ بندر اور سُؤ ر بن گئے ( المائدۃ ع ۹) پھر انہی بندوں میں سے بعض کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ شَرُّ الْبَرِیَّۃ یعنی تما م مخلوق سے بدتر ہیں (البَیِّنَۃ ع ۱) اس سے معلوم ہوا کہ صرف نام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا بندہ کہلانا کسی انسان کے لئے باعث فخر نہیں ہو سکتا۔اگر صرف بندہ کہلانے سے کوئی انسان اللہ تعالیٰ کا مقرب بن سکتاتو خدا تعالیٰ نفسِ مطمٔنہ رکھنے والے کو کیوں فرماتا کہ فَادْ خُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر:۳۰۔۳۱)یعنی آ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا۔آ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عباد میں داخل ہونا ایک بہت بلند مقام ہے جو نفسِ مطمٔنہ رکھنے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔ورنہ جہاں تک اُن کی پیدائش کا سوال ہے وہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے بندے تھے اور خدا تعالیٰ ہی اُن کا رازق اور مالک تھا۔پھر فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ جو فرمایا تو معلوم ہوا کہ خدا کا بندہ ہونا دو رنگ میں ہوتا ہے۔ایک لحاظ سے تو تمام انسان خدا تعالیٰ ہی کے بندے ہیں لیکن ایک لحاظ سے بعض اُس کے بند ے ہوتے ہیں اور بعض نہیں ہوتے۔جو لوگ اس کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں وہ تواُ س کے بندے کہلاتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ خدا کے بندے نہیں کہلاتے بلکہ شیطان کے یا اپنے نفس کے بندے ہوتے ہیں۔ان آیات میں خدا تعالیٰ نے کچھ صفات بیان فرمائی ہیں اور بتا یا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک نفس بندے کن صفات کے حامل ہوتے ہیں۔مگر اس جگہ بجائے عِبَادُ اللّٰہِ کہنے کے اللہ تعالیٰ نے عِبَادُ الرَّحْمٰن کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کیونکہ کفار کی طرف سے بار بار یہ سوال ہوتا تھا کہ رحمٰن کو ن ہے ؟ سو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو انہیں اپنی صفتِ رحمانیت کے ثبوت میں زمین و آسمان اور سورج اور چاند اور ستاروں وغیرہ کی طرف توجہ دلائی اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا وجود اُن کے سامنے پیش کیا جو صفتِ رحمانیت کے ایک کامل مظہر تھے۔اب اللہ تعالیٰ انہیں بتا تا ہے کہ اگر یہ شواہد بھی تمہاری آنکھیں کھولنےکے لئے کافی نہیں اور تمہیں خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا جلوہ نظر نہیں آتا تو تم خدا تعالیٰ کے اُن بندوں کو دیکھ لو جو اس کی رحمانیت کے چلتے پھرتے مجسّمہ ہیں۔یعنی جس طرح سورج زمین کو اپنی شعاعوں سے منور کرتا اور ہر قسم کی تاریکیوں کو دُور کرتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں وہ آپ کے فیضِ صحبت کی برکت سے دنیا کو ہر قسم کی علمی اور عقلی روشنی بہم پہنچا رہے ہیں اور انہیں اخلاق اور مذہب اور روحانیت کے میدان میں ہلاکت اور بر بادی کے گڑھوں سے بچاتے ہوئے ترقی اور کامیابی کی راہیں دکھا رہے ہیں اور جس طرح چاند سورج سے نور اخذ کرتا اور زمین پر اپنی فرحت بخش روشنی پھیلا دیتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ خدا تعالیٰ سے وحی و الہام کانور پا کر دنیا کو اپنی اُن