تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 185

لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا۰۰۶۵وَ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ تمہارے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو اپنے رب کے لئے راتیں سجدوں میں کھڑے ہو کر عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ۰۰۶۶اِنَّهَا گذار دیتے ہیں۔اور وہ ( یعنی رحمٰن کے بندے) کہتے ہیں۔اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب ٹلا دے سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۰۰۶۷ اُس کا عذاب ایک بہت بڑی تباہی ہے۔وہ (دوزخ) عارضی ٹھکانہ کے طورپر بھی بری ہے اور مستقل ٹھکانہ کے طورپر بھی (بری ہے)۔حلّ لُغَات۔ھَوْنًا۔ھَوْنًا ھَانَ کا مصدر ہے اور ھَانَ عَلَیْہِ الْاَمْرُ کے معنے ہیں لَانَ وَ سَھُلَ کسی کے لئے کوئی امر آسان ہو گیا اور اَلْھَوْنُ کے معنے ہیں اَلسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ۔سکینت اور وقار۔( اقرب) یَبِیْتُوْنَ۔یَبِیْتُوْنَ یَبِیْتُ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور بَاتَ ( یَبِیْتُ)کے معنے ہیں أَدْرَکَہٗ اللَّیْلُ نَامَ اَوْلَمْ یَنَمْ۔اُس پر رات آگئی اور اُس نے وہ وقت گذا را خواہ سوتے ہوئے خواہ جاگتے ہوئے۔وَقَالَ الْفَرَّاءُ سَھَرَ اللَّیْلَ کُلَّہٗ فِیْ طَا عَۃٍ أَوْمَعْصِیَۃٍ۔فرّاء جو عربی لغت کے ماہر گذرے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بَاتَ کے معنے ہیں اُس نے ساری رات خدا تعالیٰ کی اطاعت یا معصیت میں جاگ کر گذاری وَمِنْہُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ اور قرآن مجید کی آیت یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ میں یہی معنے مراد ہیں کہ مومن خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات جاگ کر گذارتے ہیں ( اقرب) غَرَامًا۔غرامًا۔اَلْغَرَامُ۔اَلشَّرُّ الدَّائِمُ یعنی غرام کے معنے دائمی تکلیف اور مصیبت کے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں اَلْھَلَاکُ۔ہلاکت۔اَلْعَذَابُ۔دُکھ تکلیف ( اقرب) تفسیر۔ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے عِبَادُ الرَّحْمٰن کی تعریف بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں کیا کیا صفات پائی جاتی ہیں۔یوں تو بہت لوگ ہیں جو بڑے شوق سے اپنے لڑکوں کا نام عبدالرحمٰن رکھتے ہیں اور بہت ہیں کہ جب اُن سے پوچھا جائے کہ کون ہو تو بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ صرف نام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں یا حقیقت اورا صلیت کے لحاظ سے بھی اُس کے بندے ہیں۔آخر اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کے لحاظ سے تو تما م کافر اور منافق بھی خدا تعالیٰ کے بندے ہی ہیں۔مگر پھر اُنہی