تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 187
برکات سے متمتع کر رہے ہیں جن کا منبع انسانی عقل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تازہ الہام ہے۔اور جس طرح رات لوگوں کے لئے آرام اور سکون کا موجب ہوتی ہے اسی طرح یہ لوگ غریبوں کے ہمدرد۔مسکینوں کے ملجاء اور بیوائوں اوریتامیٰ کے ماوٰی ہیں اور دنیا سے ہر قسم کے جھگڑوں اور فسادات کو مٹا کر ایک عالمگیر امن کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور جس طرح آسمان سے اس مادی دُنیا پر بارشیں نازل ہوتی اور پیاسی زمینیں سیراب ہو جاتی ہیں۔اسی طرح یہ لوگ علم و عرفان کی ایک بارش ہیں جس سے دنیا میں ایک نیا انقلاب پیدا ہو رہا ہے اور جس طرح بارش سے پھل اور پھول اور میوے اور طرح طرح کی غذائیں پیدا ہوتی ہیں۔اسی طرح اُن کے ذریعہ نئے نئے علوم دنیا میں ایجاد ہو رہے ہیں۔اور جس طرح زمین ہر ایک کے لئے فرش کا کام دیتی ہے۔اسی طرح ان کا دامنِ فیض بھی دنیا کی ہر قوم کے لئے وسیع ہے اور ہر مشرقی اور مغربی اور عربی اور عجمی کے لئے اُ ن کی محبت بھری گود کھلی ہے۔غرض یہ لوگ خدا ئے رحمٰن کی صفتِ رحمانیت کا ایک زندہ ثبوت ہیں۔یہ پانی کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف بہتے اور ہوائوں کی طرح اس کی طرف اُڑتے اور مشکلات اور حوادث میں زمین کی طرح ثابت قدم رہتے اور آگ کی طرح ہر قسم کی شیطنت کو جلاتے اور پہاڑوں کی طرح دنیا کی حفاظت کے فرائض سر انجام دیتے ہیں پس اُن کو دیکھ کر بھی خدائے رحمٰن کی رحمانیت انسان کی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ان عباد الرحمٰن کی علامات بیان کرتے ہوئے سب سے پہلی علامت یہ بیان فرماتا ہے کہ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وہ زمین پر بڑے سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔اس کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ وہ اپنی دنیوی زندگی بڑے اعتدال کے ساتھ بسر کرتے ہیں۔یعنی نہ تو بے جاغضب اور تیزی سے کام لے کر لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور نہ سُستی اور جمود کا شکار ہو کر اپنے مفوضہ فرائض کی ادائیگی سے غافل ہو جاتے ہیں بلکہ جس طرح آسمان کا وجود زمینی قوتوں کے نشوونماکے لئے ضروری ہوتا ہے اسی طرح اُن کا وجود لوگوں کی ترقی اور اُن کی فلاح و بہبود کا موجب بنتا ہے اُن کی تباہی اور بربادی کا موجب نہیں بنتا۔وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا اور جب جاہل لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی حرکات سے جوش دلائیں اور کوئی جھگڑا اور فساد کھڑا کریں تو وہ طیش میں آکر ناجائز اور اوچھے ہتھیار وں پر نہیں اُترآتے بلکہ ایسی حالت میں بھی اُن کی سلامتی ہی چاہتے ہیں یعنی ایسے ذرائع استعمال میں لاتے ہیں جن سے اُن کی اصلاح ہو جائے۔اور دنیا میں امن اور سلامتی کا دَور دَورہ ہو۔مگر ان معنوں کے علاوہ اس میں ایک اور مضمون بھی بیان کیا گیا ہے۔جس کی طرف عام طور پر بہت کم توجہ کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس میں یہ بتا یا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جب غلبہ و اقتدار حاصل ہوگا تو اُس وقت اُن میں کیا کیا صفات پائی جائیںگی۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر خدا تعالیٰ نے اس جگہ یَمْشُوْنَ فِیْ الْاَرْضِ نہیں فرمایا بلکہ یَمْشُوْنَ