تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 15
کی تعریف غلط کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کا عمل ان کی تعریف سے بھی ناقص ہوتا ہے۔جس چیز کو وہ سچ کہتے ہیں اس پر بھی وہ عمل نہیں کرتے اور جس امر کو وہ ظلم کہتے ہیں اس سے بھی وہ نہیں بچتے۔جب نبی آتا ہے تو وہ ہر قسم کی نیکی اور بدی کی ایک جامع اور مکمل تعریف اُن کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور پھر تمام احکام پر خود عمل کرکے دکھا تا ہے اور اس طرح اپنا نمونہ پیش کر کے لوگوں کے حوصلوں کو بلند کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ بہت برکت والا وہ خدا ہے جس نے ایسا کلام بھیجا جو تمام قسم کی باریکیاں بیان کرتا ہے اور حق و باطل میں امتیاز کر کے دکھا تا ہے۔اور پھر بر کت والا وہ خدا ہے جس نے وہ برکت کسی ایسے انسان کے سپرد نہیں کی جو بد عمل ہو اور بجائے دین کی طرف راغب کرنے کے لوگوں کو دین سے بیگانہ کرنے والا ہو۔بلکہ اُس نے وہ کتاب ایسے شخص کو دی جس نے اپنی ذات اور اپنی دنیوی زندگی پر موت وارد کی اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو اپنے نفس کے اندر داخل کر لیا۔اور اپنے نیک نمونہ سے دنیا کو نیکی کی طرف کھینچ لایا۔پھر اگر اس روایت کو مدنظر رکھا جائے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےنَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ کی جگہ عَلیٰ عِبَادِہٖ پڑھنے کی بھی اجازت دی تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس نے یہ فرقان اپنے تمام بندوںکے لئے نازل کیا ہے۔خواہ وہ کسی قسم کی طبیعت اور رجحان رکھنے والے ہوں۔یہ امر بھی اسلام کی صداقت اور اس کے عالمگیر مذہب ہونے کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔اسلام کی تعلیم پر غور کرکے دیکھ لو اُس نے اپنے تمام احکام میں ہر قسم کی طبائع کو مدنظر رکھا ہے تاکہ انسانی نفس پر کوئی ایسا بوجھ نہ پڑے جو اس کے لئے ملال کا موجب بن جائے۔اُس نے روٹی کھانے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے اور پانی پینے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم نماز پڑھو تو اس میں بھی اعتدال سے کام لو۔روزہ رکھو تو اس میں بھی اعتدال سے کام لو۔مال خرچ کرو تو اس میں بھی اعتدال سے کام لو حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے گھر تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے چھت کے ساتھ ایک رسّا لٹکایا ہوا ہے۔آپ ؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ رسّہ کیسا ہے۔آپ ؐ کو بتایا گیا کہ حضرت زینب ؓ جب نماز پڑھتے پڑھتے تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا اسے اتار دو۔یہ کوئی نماز نہیں جب نماز پڑھتے پڑھتے انسان تھک جائے تو اُسے چاہیے کہ آرام کرے۔( بخاری کتاب التہجد با ب مایکرہ فی التشدید فی العبادۃ ) اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ میں ہر روز