تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 14

ہیں۔نبی آکر کہتا ہے کہ سچ بولو اورد نیا کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ سچ بولو۔نبی آکر کہتا ہے کہ چوری نہ کرو اوردنیا کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ چوری نہ کرو۔نبی آکر کہتا ہے کہ ظلم نہ کرو۔اور دنیا کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ ظلم نہ کرو لیکن اس کے باوجود دنیا کو پھر بھی نبیوں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انبیاء اپنے نمونہ کے ذریعہ سے انہیں قابلِ عمل ثابت کرتے ہیں۔لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ ظلم نہ کرو لیکن جب ظلم کی تعریف کی طرف آتے ہیں تو ہر فعل کو اپنے لئے جائز قرار دے دیتے ہیں۔لوگ منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو لیکن جب موقعہ آئے تو خود جھوٹ بول لیتے ہیں۔لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ کسی کا مال غصب نہ کرو۔لیکن ضرورت پر خود دوسروں کا مال چھین کر کھا جاتے ہیں اور اُن کے نزدیک ان گناہوں کی تعریفیں بہت محدود ہو جاتی ہیں۔نبی نہ صرف ان اعمال کی تعریفوں کو مکمل کرتے ہیں بلکہ اُن پر عمل کرکے بھی دکھا دیتے ہیں بیشک ان سے پہلے بھی لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ سچ بولنا چاہیے مگر اس کے باوجود وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اگر ان کو توجہ دلائی جائے کہ تم جھوٹ کیوں بولتے ہو تو کہتے ہیں سچ بولنے سے اس دنیا میں کام نہیں چلتا اور باوجود اس کے کہ لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ دھوکا بازی ایک بری چیز ہے پھر بھی وہ دھوکا بازی کرتے ہیں۔اور اگر ان سے کہا جائے کہ تم دھوکا بازی کیوں کرتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر دنیا میں گذارہ ہی نہیں۔اسی طرح وہ دنیا کے مال لوٹتے ہیں اور اگر اُن سے کہا جائے کہ تم لوگوں کے مال کیوں لوٹتے ہو۔تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کے بغیر دنیا میں کام ہی نہیں چلتا۔دنیا میں ہر شخص بھیڑیا ہے۔اگر وہ بکری کا گوشت نہیں کھائےگا تو زندہ کس طرح رہے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی نسلیں یہ خیال کرنے لگ جاتی ہیں کہ نیک باتیں صرف کہنے سے تعلق رکھتی ہیں ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔لیکن نبی دنیاکے لئے نمونہ بنتا ہے اور انہیں اُن سچائیوں اور اُن صداقتوں پر عمل کرکے دکھا دیتا ہے جن کو وہ ناقابلِ عمل تصّور کر رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ جو لوگ اس لئے جھوٹ بولتے ہیں کہ اُن کے خیال میں سچ بولا ہی نہیں جا سکتا۔اور جو لوگ اس لئے ظلم کرتے ہیں کہ اُن کے نزدیک رحم کیا ہی نہیں جا سکتا۔انبیا ء کے نمونہ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے جیسا ایک انسان ہے جو سچ بولتا ہے کسی پر ظلم نہیںکرتا۔کسی کا حق نہیں مارتا اور ہر قسم کی برائیوں سے اجتناب کرتا ہے تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔اور وہ بھی نیکیوں پر عمل کرنےکے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پس انبیاء کی بعثت کی یہ دو اغراض ہو تی ہیں اوّل یہ کہ ان کے ذریعہ روحانی تعلیم کی علمی طور پر تکمیل ہوتی ہے۔دوسرے وہ خود عمل کرکے اُس علم کی صحیح تشریح کر دیتے ہیں۔بیشک لوگ نبی کی بعثت سے پہلے بھی یہی کہتے ہیں کہ سچ بولنا چاہیے مگر سچ کی تعریف بہت ناقص کرتے ہیں۔وہ بیشک کہتے ہیں کہ کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرنا چاہیے لیکن ظلم