تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 16
روزہ رکھا کروںگا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ اطلاع ملی تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا یہ جائز نہیں۔اگر تمہیں بہت ہی شوق ہے تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو (بخاری کتاب الصوم باب صوم الدھر )۔یہی اعتدال کا حکم باقی احکام میں بھی ہے۔مثلاً اسلام اپنے مال کو خرچ کرنےکا بھی حکم دیتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ وَ لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا ( بنی اسرائیل :۳۰)یعنی نہ تو اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے باندھ دو یعنی بخل سے کام لو اور نہ اپنا ہاتھ ایسا کھول دو کہ سب مال ضائع ہو جائے اور لوگ تمہیں ملامت کریں اور تم آئندہ مال کمانے کے سامانوں سے بھی محروم ہو جائو۔غرض اسلام نے کوئی تعلیم ایسی نہیں دی جس کا برداشت کرنا انسانی فطرت کے لئے مشکل ہوبلکہ وہ ایک بیمار اور کمزورکے لئے بھی اُسی طرح قابلِ عمل ہے جس طرح ایک مضبوط اور طاقتور انسان کے لئے اسی طرح اُس کی تعلیم عورتوںکے لئے بھی قابلِ عمل ہے اور مردوںکے لئے بھی۔بچوںکے لئے بھی قابلِ عمل ہے اور بوڑھوںکے لئے بھی۔امیروںکے لئے بھی قابلِ عمل ہے اور غریبوںکے لئے بھی۔اس کے دامانِ فیض سے دنیا کا کوئی متنفس محروم نہیں اور اس کے دائرہ ہدایت سے دنیا کا کوئی ملک اور کوئی قوم با ہر نہیں جس طرح خدا تعالیٰ کا سورج ایک بادشاہ کے محلات پر بھی چمکتا ہے اور ایک غریب کی جھونپڑی کو بھی اپنے نور سے منور کرتا ہے اسی طرح اسلام کی روحانی تعلیم غریب اور امیر کو یکساں فوائد پہنچاتی اور ہر ایک کو خدا تعالیٰ کے قریب پہنچاتی ہے وہ چھوٹے اور بڑے اور غریب اور امیر اور عورت اور مرد اور مشرقی اور مغربی اور کمزور اور طاقتور اور حاکم اور رعایا اور آقا اور مزدور اور خاوند اور بیوی اور ماں باپ اور اولاد اور بائع اور مشتری اور ہمسائے اور مسافر سب کے لئے راحت اور امن اور ترقی کا پیغام ہے۔وہ بنی نو ع انسان میں سے کسی گروہ کو اپنے خطاب سے محروم نہیں کرتا۔وہ اگلی اور پچھلی تمام اقوام کے لئے ایک ہدایت نامہ ہے جس طرح عالم الغیب خدا کی نظر پتھروں کے نیچے پڑے ہوئے ذروں پر بھی پڑتی ہے اور آسمان میں چمکنے والے ستاروں پر بھی اسی طرح اسلام کی تعلیم غریب سے غریب اور کمزور سے کمزور انسانوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرتی ہے۔اور امیر سے امیر اور قوی سے قوی انسانوں کی احتیاجوں کا بھی خیال رکھتی ہے۔وہ صرف گذشتہ مذاہب کی ایک نقل نہیں بلکہ وہ مذہب کی زنجیر کی آخری کڑی اور نظام روحانی کا سورج ہے۔بیشک مذہب کے نام میں دنیا کے تمام مذاہب شریک ہیں اُسی طرح جس طرح کوئلہ اور ہیرا کاربن کے نام میں شریک ہیں۔لیکن ہیرا ہیرا ہی ہے اور کوئلہ کوئلہ ہی ہے جس طرح پتھر کا نام کنکر یلے پتھر اور سنگِ مرمر دونوں پر بولا جاتا ہے لیکن کنکریلا پتھر کنکریلا پتھر ہی ہے اور سنگِ مرمر سنگِ مرمر ہی دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔