تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 184

اُس کے انعامات کو دیکھ کر ہر وقت اُس کے ثناء خواں اور اُس کے انعامات کے شکر گذار رہتے ہیں۔لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دُنیا میں ہر شخص کی اصلاح ہو سکتی ہے۔پس عیسائیوں کا یہ نظریہ کہ انسان فطرتی طور پر گنہگار ہے غلط ہے۔اگر پیدائشی لحاظ سے ہر انسان ناپاک ہو تا تو بدوں کو نیکی کی طرف اور نیکوں کو اعلیٰ درجہ کے روحانی مقام کی طرف نہ لایا جا سکتا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نظامِ عالم کا قیام تو ایک ایسی چیز ہے جس سے کفار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں پھر لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا۔میں صرف دوگروہوں کی تخصیص کیوں کی گئی ہے۔سو اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بعض احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ یعنی اگر تُو نے نہ آنا ہوتا تو میں زمین و آسمان بھی پیدا نہ کرتا۔اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں یہ کفارکے لئے نہیں بلکہ اصل مقصود وہ مومن ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔کفار صرف ضمنی طور پر ان اشیاء سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ہم کسی دوست کی دعوت کریں تو نوکر کو بھی اس دعوت سے حصہ مل جاتا ہے۔اسی طرح یہ نظامِ ارضی اور سماوی سب مومنوںکے لئے بنایا گیا ہے مگر چونکہ بنی نوع انسان میں سے ہی کچھ کافر بن جاتے ہیں اس لئے توابع کے طور پر وہ بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ورنہ ان کی حیثیت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا( الفرقان :۴۵)وہ لوگ چوپائیوں کی طرح ہیں بلکہ چوپائیوں سے بھی بدتر ہیں۔پس وہ اگر فائدہ اٹھاتے ہیں تو اُس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے آقا گھوڑے پر کہیں جاتا ہے تو اُس کا گھوڑا بھی چارہ کھا لیتا ہے۔ورنہ زمین و آسمان کی اصل پیدائش اسی کے لئے ہے جو اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا۔کا مصداق ہے۔وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا اور رحمٰن کے سچے بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر آرام سے چلتے ہیں (یعنی تکبر کے ساتھ نہیں چلتے) اور جب خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۰۰۶۴وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ جاہل لوگ اُن سے مخاطب ہوتے ہیں (یعنی جہالت کی باتیں کرتے ہیں) تو وہ( لڑتے نہیں بلکہ )کہتے ہیں کہ ہم تو