تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 183
کچھ کام کرنا چاہتے ہیں وہ مامور من اللہ سے استفادہ کرنے والے لوگوں سے جو کہ چاند اور ستاروں کی مانند ہوتے ہیں فائدہ اُٹھاتے اور اس روشنی کے منتظر رہتے ہیں جو کہ رات کے بعد پیدا ہو نے والی ہوتی ہے اور یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا کے مطابق دعائوں اور گریہ و زاری سے اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ان آیات میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اس ظاہر ی نظام کو دیکھ کر اُس روحانی نظام کی طرف توجہ کرے جس سے دائمی زندگی وابستہ ہے۔چنانچہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا۔یعنی یہ باتیں اس لئے بیان کی گئی ہیں تاکہ انسان اُن سے نصیحت حاصل کرے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اُس نے صرف جسمانی طورپر ہی اُس کی دست گیری نہیں کی بلکہ روحانی طور پر بھی اُس کے لئے امن و آسائش کے سامان مہیا کئے ہیں۔لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا یا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہوتے ہیںجن کی نیکی کا پہلو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ شیطانی راہوں پر چلتے چلے جاتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں انتباہ کیا جائے اور برے افعال سے بچنے کی نصیحت کی جائے اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو گو اس روشنی اور نُور سے محروم ہوتے ہیں جو مذہب کی اتباع میں انسان کو حاصل ہوتا ہے۔مگر اُن کے اندر جذبۂ شکر گذاری پایا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی نعماء اور اُس کی عطا کردہ قوتوں کا غلط استعمال نہیں کرتے بلکہ اُن سے خود بھی فائدہ اٹھاتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیکی اور اخلاق سے حصہ نہیں رکھتے اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیکی اور اخلاق سے حصہ رکھتے ہیں اور چونکہ لیل و نہار کے آنے جانے میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا تھا کہ کبھی خدا کے نبی اور رسول دنیا کی اصلاح کے لئے آتے ہیں اور کبھی تاریکی اور ظلمت کا دَور دَورہ ہوتا ہے۔اس لئے لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا۔میں بتا یاکہ روحانی رات اوردن کے یکے بعد دیگر ے آنے جانے میں کیا حکمت ہے۔ہم کیوں رات کے بعد دن لاتے ہیں اور کیوں روحانی تاریکی کے بعد آفتابِ ہدایت روشن کرتے ہیں۔فرماتا ہے ہماری غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں جو لوگ گنہگار ہوں۔اُن کو اس سلسلہ رسالت کے ذریعہ نیک بنا دیا جائے۔اور جو لوگ فطری نیکی کے مقام پر کھڑے ہوں انہیں خدا کا کلام اور الہام اس سے بھی اعلیٰ مقام یعنی مقامِ شکر کی طرف لے جائے۔گویا لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَاَوْاَرَادَ شُکُوْرًا۔میں دو قسم کے مدارج رکھنے والے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ایک تو اُن کا جو نصیحت کی بات سن کر اپنے نقائص دور کر لیتے ہیں اور دوسرے ان کا جو صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ ترقی کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کے احسانات اور