تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 182

انسان کی روح جسم خاکی سے جدا ہو جاتی ہے۔اور روحانی موت وہ ہے جب کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق توڑ بیٹھتا ہے۔پس جس طرح اس جسمانی زندگی کو قائم رکھنےکے لئے کنویں کھو دے جاتے ہیں اور نہریں نکالی جاتی ہیں اور مختلف قسم کے اناج بوئے جاتے ہیں اور باغ لگائے جاتے ہیں۔ویسے ہی روحانی زندگی کو قائم رکھنےکے لئے ضروری ہے کہ روحانی پانی اور روحانی غذا سے اس کو قائم رکھا جائے۔اور جیسا کہ ایک کسان اپنی کھیتی کو پکانےکے لئے اس کو پانی دیتا ہے اور سورج اور چاند کی روشنی سے اُس کو فائدہ پہنچاتا ہے ویسے ہی انسانوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کلامِ الٰہی کے پانی سے اپنے دل کی کھیتی کو سیراب کریں اور خدا تعالیٰ کے جلوے اور اس کے نبیوں کی روشنی کے پرتو سے اُس کو پکائیں تاکہ اُن کی روحانی زندگی قائم رہ سکے۔غرض انسان کو ظاہر ی سورج اور چاند کی مثال دے کر اُس باطنی انتظام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس سے اُس کی روحانی زندگی قائم رہتی ہے۔اسی طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کی مثال سے بھی یہی سکھا یا گیا ہے کہ جیسے ظاہر ی سورج ایک وقت چڑھتا ہے اور دن کی روشنی تمام دنیا میں پھیلا دیتا اور تاریکی کو نور سے بدل دیتا ہے اور تمام پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کردیتا ہے اور اس کے چڑھنے کے بعد بُری اور بھلی اور پاک اور ناپاک چیزوں میں فرق کرنا آسان ہو جاتا ہے اور انسان اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو جاتاہے اور اپنی آئندہ زندگی کے لئے سامان مہیا کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور حتی الوسع اُ س کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح جب روحانی آفتاب اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور قلو ب کی سر زمین پر روشنی پھیلا دیتا ہے اور بدیوں کی ظلمت کو نیکیوں کے نور سے بدل دیتا ہے اور وہ گناہ جو انسان میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں اُن کو ظاہر کر دیتا ہے اور طرح طرح کی بُرائیاں اور خُبث اور گند اور بیماریاں جو انسان کے روحانی وجود کے ساتھ پیوستہ ہوتی ہیں اُن سے اُس کو پاک کرتا ہے او ر شفا دیتا ہے تواُس وقت اُس میں بُرے بھلے کے پرکھنے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اپنے خلوص دل اور صحت ِ نیّت کے ساتھ اپنی روحانی زندگی کی بہتری کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کر لیتا ہے۔پس وہ کام جو کہ مادی سورج اس زمین پر طلوع ہو کر کرتا ہے اُس سے بڑھ کر روحانی سورج سے ظہور میں آتا ہے کیونکہ یہ تو صرف اس چند روز ہ زندگی کے لئے سامان مہیا کرتا ہے اور وہ دائمی زندگی کے لئے توشہ جمع کر دیتا ہے اور انسان کو خدا سے ملا دیتا ہے۔اسی طرح جب رات پڑتی ہے تو تمام دنیا میں اندھیر ا چھا جاتا ہے اور اُس وقت انسان اپنے سب دنیوی کا روبار کو چھوڑ کر آرام کرنےکے لئے لیٹ جاتا ہے اور ایسی غفلت کی نیند اُس پر طاری ہو جاتی ہے کہ اس کو دنیاو مافیہا کی کچھ بھی خبر نہیں رہتی۔اسی طرح جب روحانی زندگی پر رات کا تاریک زمانہ آتا ہے تو اکثر انسان دین کو چھوڑ کر دُنیا کی غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اور وہ لوگ جو