تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 181
پیچھے آنے کے ہیں ( مفردات ) نیز عرب کہتے ہیں۔لَہٗ وَلَدَانِ خِلْفَانِ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اَحَدُھُمَا طَوِیْلٌ وَالْاٰخَرُ قَصِیْرٌ اَوْ اَحَدُھُمَا اَبْیَضُ وَ الْاٰخَرُ اَسْوَدُ۔یعنی اس کے دو بچے ہیں جن میں سے ایک لمبے قد کا اور دوسرا چھوٹے قد کا ہے یا یہ کہ ایک سفید ہے اور دوسرا سیاہ۔پس خِلْفَۃً کے معنے ہوںگے ( ۱) ایک دوسرے کے بعد آنے والے ( ۲) بڑا چھوٹا یا سفید و سیاہ۔تفسیر۔فرماتا ہے تم کہتے ہو رحمٰن کیا چیز ہے رحمٰن تو وہ ہے جس نے آسمانوں میں ستاروں کے ٹھہرنے کے مقام بنائے ہیں اور اُس میں چمکتا ہوا سورج اور روشن چاند بنایا ہے۔اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ان لوگوں کے فائدہ کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہیں یا اللہ تعالیٰ کے شکر گذار بندے بننا چاہیں آگے پیچھے آنے والا بنایا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو اس امر کی طرف توجہ دالائی ہے کہ جس خدا نے انسانی جسم کی پرورش کے لئے سورج اور چاند اور ستارے اور ہوا اور پانی اور آگ اور خاک اور ہزاروں قسم کی غذائیں تیار کی ہیں یہ کس طرح ممکن ہے کہ اُس نے انسان کی ہدایت کے لئے کوئی آسمانی ہدایت نامہ نہ اتارا ہو۔کیونکہ یہ تو معمولی عقل کے آدمی کا بھی کام نہیں کہ ادنیٰ ضرورت کو پورا کرے اور اعلیٰ ضرورتوں کو نظر انداز کر دے۔پھر اللہ تعالیٰ کب ایسا فعل کر سکتا ہے۔جب اس کی رحمانیت نے انسانی آنکھ کے لئے روشنی اور کان کے لئے آواز اور ناک کے لئے خوشبو اور زبان کے لئے مختلف ذائقے پیدا کئے ہیں تو یقیناً اُس نے عقل کے لئے بھی ایک ہدایت نامہ ارسال کیا ہوگا تاکہ انسانی عقل حیرت اور شبہ میں ہی عمر نہ گذار دے بلکہ یقین اور اطمینان کے مقام پر کھڑی ہو کر زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کر سکے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیوی زندگی کے لئے سورج اور چاند کی ضرورت ہے اسی طرح روحانی زندگی کے لئے ایک روحانی سورج اور چاند کی ضرورت ہے۔اگر وہ نہ ہوں تو انسان پر روحانی موت آجائے اور وہ باوجود کھانے اور پینے کے بھوکا اور پیا سا ہو اور باوجود بصارت کے اندھا ہو اور باوجود قوتِ شنوائی کے بہرہ ہو اور باوجود زندہ ہونے کے اس پر ایک موت طاری ہو۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ااسْتَجِیْبُوْ الِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَا کُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ( الانفال :۲۵)یعنی اے مومنو! خدا اور رسول کی آواز کو سنو اور قبول کرو۔جبکہ وہ تم کو زندہ کرنےکے لئے بُلائے۔گویا باوجود اس کے کہ صحابہ ؓ کرام زندہ تھے اور کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے پھر بھی خدا نے اُن کو حکم دیا کہ جب تم کو زندہ کرنےکے لئے بلایا جائے تو تم سرتابی نہ کرو۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک جسمانی اور ایک روحانی۔جسمانی موت تو وہ ہے جس میں