تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 176
(۲) عربی زبان کے ماہروں کے کلام میں بھی ان معنوں کی طرف اشارات ملتے ہیں۔چنانچہ بو علی فارسی جو امامِ نحو کہلاتے ہیں اور عربی زبان کے بہت بڑے ماہر گذرے ہیں وہ کہتے ہیں۔اَلرَّحْمٰنُ اِسْمٌ عَامٌ فِیْ جَمِیْعِ اَنْوَاعِ الرَّحْمَۃِ یَخْتَصُّ بِہِ اللّٰہ تَعَالیٰ وَالرَّحِیْمُ اِنَّمَا ھُوَ فِیْ جِھَۃِ الْمُؤ مِنِیْنَ کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَکَانَ بِالْمُوْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ( فتح البیان جلد اوّل تفسیر سورۃ الفاتحۃ، بسم اللہ الرحمن الرحیم) یعنی رحمٰن عام ہے اور سب قسم کی رحمتیں اُس میں شامل ہیں۔لیکن رحیم کی صفت کا ظہور مومنوں کے بار ے میں ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مومنوں کے بارہ میں رحیم ہے۔(۳)احادیث سے بھی ان معنوں کو صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔چنانچہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ؐ فرماتے تھے۔اَنَا الرَّحْمٰنُ خَلَقْتُ الرَّحْم وَشَقَقْتُ لَھَا اِسْمًا مِنْ اِسْمِیْ فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہٗ ( ترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ماجا ء فی قطیعۃ الرحم) یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں رحمٰن ہوں میں نے رحم پیدا کیا ہے اور اپنے نام سے اس کا نام نکالا ہے پس جو رحم کے تعلقات کو جوڑے وہ مجھ سے تعلقات کو جوڑتا ہے اور جو اُسے قطع کر ے وہ میرے تعلق کو قطع کرتا ہے۔اس حدیث سے بھی رحمٰن کے معنوں کی وضاحت ہوتی ہے کیونکہ رحمی تعلقات سب سے زیادہ رحمانیت سے مشابہت رکھتے ہیں۔جیسے ماں کی اپنے بچہ سے محبت بالکل طبعی ہوتی ہے اور گو وہ بعض رنگ میں بچہ سے فائدہ بھی اُٹھاتی ہے مگرا س کے بچہ سے سلوک میں کسی بدلہ کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔پس ماں اور بچہ کے تعلقات کا رحمانیت سے نکلا ہوا ہونا بتا تا ہے کہ رحمانیت بلا مبادلہ سلوک کا نام ہے۔(۴) پھر قواعد ِ زبان سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رحمٰن فعلان کے وزن پر ہے اور عربی زبان میں جو لفظ اس وزن پر آتے ہیں وہ پھیلائو۔وسعت اور غلبہ پر دلالت کرتے ہیں۔اور رَحِیْمٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر ہے۔اور فعیل کا لفظ بار بار وقوع پر دلالت کرتا ہے۔پس رحمٰن کے معنے ہیں۔نہایت ہی وسیع رحمت والا جس کی رحمت میں لاتعداد افراد شامل ہیں اور جس کی رحمت سے دنیا کی کوئی چیز باہر نہیں۔اُس کی رحمت صرف عمل کرنے والے کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتی۔بلکہ اس کا تعلق سب مخلوقات سے ہے۔مومن، کافر ،جاندار ، غیر جاندار سب اس کی رحمانیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔رحمانیت کی صفت کی اہمیت اُس سے ظاہر ہے کہ انسان جب بھی کسی نئے مقام پر پہنچتا ہے اُسے بعض نئی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے بلکہ انسان کے سوا دوسری تمام چیزوں کی ترقی بھی تدریجی ہے اور ہر مرحلہ پر بعض نئے سامانوں کی احتیاج ہوتی ہے۔پہاڑوں کے سلسلہ کو ہی دیکھ لو کہ وہ یکدم اونچے نہیں ہوتے