تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 175
اعراض کیا۔اور وہ اُس کو قبول کرنے سے رُک گئے۔( اقرب ) تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے رحمٰن اُس کی ایک مشہور صفت ہے جس کا قرآن کریم میں بار بار ذکر آتا ہے اور رحمٰن اُس ہستی کو کہا جاتا ہے جو بلا مبادلہ اور ہماری کوشش اور سعی کے بغیر ہم پر احسان کرتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے سورج چاند اور تمام نظام شمسی و قمری وغیرہ پیدا کئے ہیں جن کی پیدائش میں ہمارے کسی عمل کا دخل نہیں۔اسی طرح شریعت کے ذریعے ہمیں جو ہدایت میسر آتی ہے یہ بھی صفتِ رحمانیت سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ہمارے کسی عمل کے بدلہ میں ہمیں نہیں ملی بلکہ شریعت آتی ہی اُس وقت ہے جب دنیا بدعمل ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ بیٹھتی ہے۔رحمٰن کے ان معنوں کی صداقت کا ثبوت یہ ہے کہ ( ۱) اہل عرب نے کبھی بھی سوائے اللہ کے رحمٰن کا لفظ بطور صفت بغیر قید کے کسی پر استعمال نہیں کیا۔دوسروںکے لئے اوّل تو اس لفظ کا استعمال ہی نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے کے بعد جس سے صاف ظاہر ہے کہ ضد سے ایسا کیا گیا ہے۔مگر اُس وقت بھی مطلقًا اس لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا۔بلکہ اضافت کے ذریعہ سے اُسے مقید کر دیا گیا ہے۔جیسا کہ مسیلمہ کذاب کے ماننے والے اُسے رحمٰنِ یمامہ کہتے تھے۔مگر ان لوگوں کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ خالی رحمٰن کا لفظ بغیر اضافت کے اس کے لئے استعمال کریں۔یا رحمٰن کا لفظ اس کے لئے استعمال کریں جس کے معنے ہیں سب مخلوق کا رحمٰن۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عربی زبان اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دے سکتی ( لسان العرب)۔عربی زبان کی یہ خصوصیت بتاتی ہے کہ اس لفظ میں ایک ایسی رحمت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ظاہر نہیں ہوسکتی اور وہ قسم بلا مبادلہ رحم کرنا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا باقی مخلوق کا رحم یا ماضی کا احسان اتارنےکے لئے ہوتا ہے یا حاضر یا مستقبل کی امیدوں پر مبنی ہوتا ہے۔اور اگر احسان کرنے والے کی نیت بدلہ کی نہ بھی ہو تب بھی بدلہ اُسے ضرور مل جاتا ہے۔چنانچہ انسان جس قدر رحم کرتے ہیں وہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا۔یا تو اُس میں رضاء الٰہی مدّنظر ہوتی ہے اور اس میں بھی بدلہ کی صورت موجود ہوتی ہے اور یا پھر تمدن کے قیام کا خیا ل غالب ہوتا ہے اور وہ بھی بدلہ کے خیال پر مشتمل ہے۔اور اگر یہ خیال نہ بھی ہو تب بھی انسان اپنی نیکی کا بدلہ کسی نہ کسی شکل میں حاصل کر لیتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا احسان خالص احسان ہوتا ہے۔