تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 177
بلکہ آہستہ آہستہ بلند ہو تے جاتے ہیں۔پہلے زمین پر صرف نشیب و فراز نظر آتا ہے پھر معمولی پتھر آتے ہیں اس کے بعد چھوٹے چھوٹے ٹیلے۔پھر چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ان کے بعد ان سے اونچی پہاڑیاں اور پھر پہاڑ آجاتے ہیں۔یہی حال سبزیوں اور ترکاریوں کا ہے۔اگر دیکھا جائے تو اُن کی ترقی میں بھی کئی مدارج نظر آئیں گے۔پہلے بیج بویا جاتا ہے پھر وہ پھوٹتا ہے اور روئیدگی ظاہر ہوتی ہے۔اس کے بعد وہ جڑ پکڑتا ہے اور بڑھتا ہے۔حتّٰی کہ کونپل نکل آتی ہے۔گویا اس کے بڑھنے کے بھی مختلف مدارج ہیں۔غرض تمام چیزوں کے مختلف مدارج ہوتے ہیں اور ہر درجے پر اس چیز کو نئے سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انسان کی بھی یہی حالت ہے کہ وہ ترقی کے ایک درجہ کو حاصل کر لیتا ہے تو اُسے اُس سے اگلے مقام کے لئے نئے سامانوں کی حاجت ہوتی ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُسے نرم غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اُسے ماں کی چھاتیوں سے ملتی ہے۔جب ذرا طاقت پکڑ جاتا ہے اور ٹھوس غذا کا محتاج ہوتا ہے تو اس کے دانت نکل آتے ہیں۔پھر اور بڑا ہوتا ہے اور نسل کے پیدا کرنے کے قابل ہوتا ہے تو اُس کے لئے خدا تعالیٰ نے جوڑا مہیا کیا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح آنکھ کھلتی ہے تو سورج موجود ہوتا ہے تاکہ اس کی روشنی میں وہ تمام چیزوں کو دیکھ سکے۔پھر آنکھ کے لئے ضروری تھا کہ خوبصورت اشیاء ہوں تاکہ اُس میں طراوت پیدا ہو۔اس کے لئے اُس نے حسین مناظر۔خوبصورت انسان۔رنگ رنگ کے پھول مختلف قسم کی سبزیاں ، عجیب و غریب درخت ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں اور سینکڑوں چرند اور پرند پیدا کر دئے۔پھر اُس نے کان دئیے تو ساتھ ہی آوازیں بھی پیدا کردیں۔مگر ان آوازوں میں بھی بے شمار فرق رکھ دئیے۔اگر سب کی آواز ایک جیسی ہوتی تو امتیاز کرنا مشکل ہوتا۔مگر گھوڑے اور گدھے کی آوازسن کر انسان فوراً امتیاز کر لیتا ہے کہ گھوڑا ہنہنا رہا ہے یا گدھا رینگتا ہے۔پھر ہر انسان کی آواز میں کچھ نہ کچھ فرق رکھ دیا جس سے ہر شخص دوسرے کی آواز سے ہی اُسے پہچان لیتا ہے۔اسی طرح اُس نے چھونے کی طاقت دی تو ساتھ ہی چھونےکے لئے چیزیں بھی پیدا کردیں۔پھر ان چیزوں میں سے بھی کسی کو نرم بنا یا اور کسی کو سخت۔کوئی پھسلنی بنائی اور کوئی کھردری۔پھر نرمی اور سختی میں ہزاروں قسم کے فرق رکھ دئیے۔ہم ریشم پر ہاتھ رکھتے ہیں تو اُس میں اور قسم کی ملائمت ہوتی ہے۔ربڑ پر ہاتھ رکھتے ہیں تو اُس میں اور قسم کی ملائمت ہوتی ہے اور ہماری چھونے کی طاقت دونوں میں فوراً ایک امتیاز قائم کر لیتی ہے۔غرض جس چیز پر بھی نگاہ ڈالی جائے اُس کی صرف ایک کڑی معلوم نہیں ہوتی بلکہ کڑیوں کا ایک لمبا سلسلہ نظر آتا ہے۔اور ہر کڑی کے مکمل ہونے پر ایک نئی ضرورت پیش آتی ہے جس کے لئے پہلے سے سامان تیار ہوتا ہے۔اور اَلرَّحْمٰن کے معنوں میں یہی مفہوم شامل ہے کہ وہ ہر چیز کی ترقی کے سلسلہ میں ہر کڑی پر جن سامانوں