تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 174
شاہد ہے۔اسی طرح اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر ورق اور آپؐ پر نازل ہونےوالے کلام کی ایک ایک آیت خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا ایک زندہ گواہ نظر آئےگی۔پھر امتِ محمدیہ کے وہ تمام صلحاء اور اولیاء اور ابدال اور اقطاب اور مجدّدین و مصلحین وغیرہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار برکات اور اُس کے تفضلات کا مشاہدہ کیا اور جو اپنے اپنے دائرہ میں ایک چھوٹے محمدؐ بن گئے۔اُن کا اپنا وجود بھی خدا تعالیٰ کے رحمٰن ہونےکا ایک بہت بڑا ثبوت ہے کیونکہ انہوں نے جو کچھ پایا اپنے زور بازو سے نہیں پایا بلکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اُس بحرِ نا پیدا کنار سے پایا جسے خدا نے اس پیاسی دنیا کی سیرابی کے لئے محض اپنے فضل سے جاری کیا ہے۔اسی حقیقت کو بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے اس شعر میں نہایت لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا ہے کہ ؎ ایں چشمہ ٔ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطرۂ زبحرِ کمالِ محمد ؐ است (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۹۷ اشتہارنمبر ۲۰ ) یعنی یہ چشمہ ٔ فیض جس سے میں لاکھوں بندگانِ خدا کو سیراب کر رہا ہوں یہ میرا چشمہ نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے سمندر کا ایک حقیر قطرہ ہے جسے میں پیاسی دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔پس وہ روحانی وجود جن کے ذریعہ دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں وہ بھی فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا میں ہی شامل ہیں۔کیونکہ اُن کو دیکھ کر بھی خدا تعالیٰ کی رحمانیت کو بھولنے والے اُس کے رحمٰن ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کے سامنے سجدہ میں گِر جائو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اس کے اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًاؒؑ۰۰۶۱ آگے سجدہ کریں جس (کے آگے سجدہ کرنے) کا تو حکم دیتا ہے ؟ اور یہ بات ان کو نفرت میں اور بھی بڑھا دیتی ہے۔حل لغات۔نُفُوْرًا۔نُفُوْرًا نَفَرَ کا مصدر ہے اور نَفَرَتِ الدَّآبَّۃُ کے معنے ہیں جَزِعَتْ وَتَبَاعَدَتْ گھبرا کر اور ڈر کر جانور دُور بھاگ گیا۔اور جب نَفَرَ الْقَوْمُ کہیں تو معنے ہوں گے لوگ بکھر گئے اور جب نَفَرَ الْقَوْمُ عَنْ کَذَا کا فقرہ استعمال کریں تواُس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اَعْرَضُوْا وَصَدُّوْا۔لوگوں نے کسی بات سے