تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 173

بڑھی اور وہ حلیمہ کو آپ کے دروازہ پر کھینچ لائی۔حلیمہ ایک غریب عورت تھی جسے مکہ کا کوئی خاندان اپنا بچہ سپرد کرنےکے لئے تیار نہ تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نےاُس کی غربت اور بےبسی کو دیکھ کر محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا لعل بے بہا اُس کی گود میں ڈال دیا۔اور پھر اس کے دل میں بھی آپ کی ایسی محبت پیدا کر دی کہ اگر آپ ذرا بھی اِدھر اُدھر ہوجاتے تو وہ اپنے بچوں کو ڈانٹتی کہ تم اسے کیوں چھوڑ آئے ہو۔پھر عبدالمطلب فوت ہوئے تو خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے ابو طالب جیسا چچا آپ کو دے دیا جس نے انتہائی تکلیف دہ گھڑیوں میں بھی آپ کا ساتھ دیا او ر قوم کی دھمکیوں کے باوجود آپ کو نہ چھوڑا۔جوان ہوئے تو خدا تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت نے حضرت خدیجہ ؓ کے دل میں آپ کی نیکیوں کو دیکھ کر آپ کی محبت پیدا کر دی اور انہوں نے خود آپ کو شادی کا پیغام بھجوایا (السیرة النبویۃ لابن ہشام حدیث تزویج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة ؓ)۔دوستوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو خدا تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت نے ابو بکر ؓ جیسے وفا شعار دوست آپ کو مہیا کر دئیے۔پھر جب قوم کی گِری ہوئی حالت کو دیکھ کر آپ کا دل بیتاب ہوا اور حرا میں آپ نے اپنی سجدہ گاہ کو آنسوئوں سے تر کر دیا تو خدائے رحمٰن کی نگاہِ انتخاب نے آپ کو چُنا اور اُس نے دنیا کی ڈوبتی نائو کو بچانےکے لئے آپ کوآسمانی کشتی بان مقرر کردیا۔اسی طرح جب آپ کو قومی امور کی سرانجام دہی کے لئے مال کی ضرورت محسوس ہوئی تو خدا ئے رحمٰن نے حضرت خدیجہ ؓ کے دل میں تحریک کی اور انہوں نے اپنی تمام جائیداد آپ کے سپر د فرما دی اور پھر روحانی اور جسمانی طور پر خدا تعالیٰ نے اپنی صفتِ رحمانیت کے ماتحت آپ کے دائرہ فیوض کو اتنا وسیع کیا کہ لاکھوں لوگوں نے آپ کے چشمۂ فیض سے اپنی روحانی پیا س بجھا ئی اور لاکھوں لوگ آپ کی غلامی کی بر کت سے شتربانی سے جہاں بانی تک جا پہنچے۔اسی طرح قرآن کریم کا نزول جو ایک دائمی شریعت ہے خود اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کے رحمٰن ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔کیونکہ کلام ِ الٰہی بندوں کی کسی نیکی کے بدلہ میں نازل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کے نتیجہ میں بطور احسان نازل ہوتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (الرحمٰن :۲۔۳) یعنی قرآن سکھلانے والا خدا رحمانیت کی صفت رکھتا ہے۔اگر وہ رحمٰن نہ ہوتا تو قرآن جیسی نعمت ایک جسمانی بندے پر کبھی نازل نہ ہوتی۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کے ظہور کا ایک زندہ گواہ ہے اور آپؐ پر نازل ہونے والا کلام بھی خدا تعالیٰ کے رحمٰن ہونے پر شاہد ہے۔پس اگر خدائے رحمٰن کی رحمانیت کے بارہ میں کسی کے دل میں کوئی سوال پیدا ہو تو اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ پر نازل ہونے والے کلام پر تدبّر کرنا چاہیے۔اگر وہ غور کرےگا تو جس طرح کائنات عالم کا ایک ایک ذرّہ خدا تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت پر