تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 172
آنکھیں بند کر رہے ہو جو صفتِ رحمانیت کے ماتحت اُس نے ساری دنیا پر کئے ہیں اور کلامِ الٰہی کی ضرورت بھی تسلیم نہیں کرتے جو صفتِ رحمانیت کے ماتحت نازل ہوا ہے تو اُس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے حضور جھکو اور اُس سے دعائیں کرو کہ وہ تم پراسلام اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت روشن کر دے۔اور توحید کی عظمت تم پر ظاہر کر دے۔اور اگر تم خلوصِ دل سے اُس کی طرف رجوع کرو گے اور دعائوں سے اُس کی رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کرو گے تو خدا تعالیٰ کسی نہ کسی ذریعہ سے تمہارے دل کے تاریک گوشوں کو بھی اپنے نور سے منور کر دےگااور تم پر اُس روحانی سورج کی حقیقت کو واضح کر دےگا جو اُس نے اس مادی دنیا کی تاریکیوں کو دُور کرنےکے لئے روشن کیا ہے۔اور دوسرا علاج یہ ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو اور اُنہی سے اپنی عقدہ کشائی چاہو۔اگرتم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا وجود خدا تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کے ظہور کا ایک زندہ ثبوت ہے اور آپ کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اور جوانی سے لےکر دعویٰ ٔ نبوت تک اور پھر دعویٰ نبوت سے لے کر آپ کے یوم وصال تک خدا تعالیٰ نے آپ پر اس قدر احسانات کئے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر ایک شدید سے شدید مخالف کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے رحمٰن ہونے کا اقرار کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔قرآن کریم نے اپنے ان بیشمار انعامات کا ایک مقام پر چند نہایت ہی مختصر الفاظ میں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى۔وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۔وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى ( الضحٰی :۷۔۸)یعنی اے محمد رسول اللہ کیا خدا نے تجھے یتیم پا کر اپنے زیر سایہ جگہ نہیں دی اور کیا ایسا نہیں ہو اکہ جب اُس نے تجھے خدا تعالیٰ کی محبت اور اپنی قوم کی اصلاح کے غم میں سر گرداں پایا تو اُس نے تجھے صحیح راستہ بتا دیا۔اور جب اُس نے تجھے کثیر العیال پایا تو اپنے فضل سے تجھے غنی کر دیا۔ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اجمالی رنگ میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی رحم مادر میں ہی تھے کہ آپ کے والد محترم فوت ہوگئے اور آپ پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہوگئے (السیرة الحلبیةباب وفاة والدہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمانیت نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور آپ کے پیدا ہوتے ہی آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب کے دل میںا ُس نے آپ کی ایسی محبت پیدا کر دی کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کا اپنی آنکھوں سے اوجھل ہونا برداشت نہیں کر سکتے تھے اور بڑے ناز اور محبت کے ساتھ آپ کی پرورش فرماتے رہے (السیرۃ الحلبیۃ باب وفاة امہ صلی اللہ علیہ وسلم والسیرة النبویة لابن ہشام وفاة آمنة وحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع جدہ)۔اسی طرح جب آپ کے لئے دودھ پلانے والی دایہ کی تلاش ہوئی تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمانیت آگے