تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 165

اور سامانوں کی بھی ضرورت ہو جن کا مہیا کرنا تمہاری استطاعت میں نہ ہو اور دنیا سمجھے کہ تم رہ گئے ہو۔اُس وقت تمہارا دل مطمئن ہو اور مایوسی تمہارے قریب بھی نہ پھٹکے۔تم اپنی قلیل پونجی خرچ کرتے جائو اور اپنے خون کا آخری قطرہ بہاتے جائو اور یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ تم کو کبھی نہیں چھوڑےگا اور تم اُس کے فضل سے کامیاب ہو کر رہو گے۔غرض ایک وہ توکل ہے جب تمہار ا علم اور تجربہ یہ کہتا ہو کہ اب کوئی رخنہ باقی نہیں رہا اور تم یہ کہو کہ رخنہ ہے اور ضرور ہے۔اور ایک وہ توکل ہے جب تم سمجھو کہ کامیابی کی کوئی صورت نہیں اور رخنے ہی رخنے نظر آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود خدا تعالیٰ اس کام کو کر کے رہے گا۔خواہ چھت بھی نہ رہے اور دیواریں بھی گِر پڑیں۔غرض ایک توکل کمزوری کی حالت میں ہوتا ہے اور ایک توکل قوت کی حالت میں ہوتا ہے جو توکل قوت کی حالت میں ہوتا ہےاگر وہ صحیح ہو تو وہی اصل توکل ہے مگر دنیا میں عام طورپر جب لوگ کسی کام کو شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے ہی یہ کام کرنا ہے اور ہم اس کو کرکے رہیں گے۔صرف سامان چاہیے اور جب سامانوں کے حصول کے لئے انہیں جدوجہد کرنی پڑتی ہے تو ہمتیں ہارکر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یہ کام خدا پر چھوڑ تے ہیں۔حالانکہ توکل ان دونوں حالتوں میں انسان کو الٹ راستے پر چلاتا ہے۔جب کام مکمل ہو جائے تو توکّل کہتا ہے یہ مکمل نہیں۔اورجب ہر قسم کی کوششوں اور تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے بعد بھی کوئی کام مکمل نہ ہو۔تو توکل کہتا ہے تم سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مکمل ہو جائے گا۔گویا توکل ہماری عقل کے بالکل خلاف فتویٰ دیتا ہے۔جب عقل کہتی ہے کہ سامان مکمل نہیں تباہی کے سامان بڑی سرعت سے ہو رہے ہیں تو توکّل کہتا ہے کہ تم خدا کی طرف دیکھو تمہارا خدا محی بھی ہے اور جب عقل کہتی ہے کہ اب تباہی کی کوئی صورت نہیں کامیابی کے سب سامان ہمیں حاصل ہیں تو توکّل کہتا ہے کہ تم ڈرو کیونکہ خد ا صرف محي نہیں بلکہ مُمیت بھی ہے۔گویا عقل جب سب کام کر لیتی ہے تو توکّل کہتا ہے خدا تعالیٰ کی صفتِ مُمیت کو نہ بھولو۔اور جب ہمارے سب سامان رہ جاتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب موت اور تباہی آگئی اور مایوسی ہی مایو سی چاروں طرف دکھائی دیتی ہے تو توکّل کہتا ہے کیا خدا محي نہیں ؟ پس توکّل کا مفہوم یہ ہے کہ جہاں تک خدا نے تم کو طاقتیں دی ہیں اُن کو پورا استعمال کرو اور اس کے بعد صوفی سے زیادہ خدا پر اعتبار کرو اور کہو کہ جو کمی رہ گئی ہے وہ خد ا آپ پوری کرے گا۔اور پھر خواہ انتہائی مایوسی کا عالم ہو تم ڈٹ کر بیٹھ جائو اور کہو کہ ہمارا خدا ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غارِ ثور میں حضرت ابو بکر ؓ سے فرمایا کہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ( التوبۃ :۴۰) ہمارا کام یہ تھا کہ دشمن سے بچ کر نکل آتے سو نکل آئے۔اَب دشمن ہمارے سر پر آپہنچاہے تو یہ خدا کا کام ہے کہ وہ ہمیں بچائے۔سو ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔خدا ہمارے