تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 164
یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پا س کوئی علاج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب وزراء نے اپنا مشورہ پیش کیا اور مشکلات بتائیں اور کہا کہ فلاں چیز کا انتظام نہیں تو سلطان عبدالحمید نے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خداکے لئے بھی چھوڑنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سلطان عبدالحمید کے اس فقرہ سے بہت ہی لطف اٹھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات بہت ہی پسند ہے۔تو مومن کے لئے اپنی کوششوں میں سے ایک خانہ خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑنا ضروری ہوتا ہے۔درحقیقت سچی بات یہ ہے کہ مومن کبھی بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا بلکہ دراصل کوئی شخص بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا جب وہ کہہ سکے کہ اب کوئی رستہ کمزوری کا باقی نہیں رہا۔اور اگر کوئی انسان کہے کہ میں اپنا کام ایسا مکمل کر لوں کہ اس میں کوئی رخنہ اور سوراخ باقی نہ رہے تو یہ حماقت ہوگی۔مگر اُسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ انسان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے۔اس وقت یوروپین قومیں پہلی حماقت میں مبتلا ہیں اور مسلمان دوسری حماقت میں۔وہ ایک مکان بناتی ہیں اُس کو دروازے لگاتی ہیں۔اُ س پر چھت ڈالتی ہیں اور اُسے پوری طرح مضبوط کر نے کے بعد کہہ دیتی ہیں کہ اب اسے آگ بھی نہیں لگ سکتی۔اسے زلزلہ بھی نہیںگرا سکتا۔اور مسلمان اپنے مکان کے لئے صرف آٹھ فٹ کی ایک دیوار کھڑی کر تا ہے نہ اس کی چاردیواری مکمل کرتا ہے نہ اُس پر چھت ڈالتا ہے۔نہ دروازے اور کھڑکیاں لگاتا ہے اور اُسے چھوڑ کر چلا آتا ہے اور جب پوچھو تو کہہ دیتا ہے کہ بس خدا کے توکل پر میں نے ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔مگر یہ توکل نہیں یہ سستی اور غفلت کی علامت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پہلے اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر خدا تعالیٰ پر توکل کرو (جامع ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب نمبر ۶۰حدیث نمبر ۲۵۱۷ )۔یعنی جہاں تک تم کا م کر سکتے ہو کرو لیکن جب تمہارے ہاتھ شل ہو جائیں اور تمہارے تمام سامان ختم ہو جائیں۔اس وقت تم سجدے میں گِر جائو اور اللہ تعالیٰ کی مدد مانگو اور اُس پر توکل کرو۔گویا جب تم ساری تدابیر اختیار کر لو اور تمہاری عقل کہتی ہو کہ اب کوئی چیز باقی نہیں رہی اور دنیا کے علوم کہتے ہوں کہ جتنے علاج ممکن تھے وہ سب ہو چکے۔جب فراست کہتی ہو کہ اب کوئی رخنہ باقی نہیں رہا اور جب تجربہ کہتا ہو کہ اب کوئی سقم نہیں رہا۔اُس وقت تم کہو کہ اس کام میں ضرور کوئی نہ کوئی رخنہ ہے جسے خد ا پورا کرے گا۔گویا ایک توکل علمی ہوتا ہے اور ایک عملی۔عملی توکل وہ ہے جب تمہاری عقل اور دنیا کی عقل۔اور تمہارا تجربہ اور دنیا کا تجربہ متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیتا ہو کہ اب کام مکمل ہو گیا۔اس وقت تم کہو کہ یہ ممکن نہیں ضرور اس میں کوئی رخنہ ہے جسے خدا تعالیٰ پورا کرے گا۔اور عملی توکل یہ ہے کہ جتنے ذرائع حصولِ مقصد کے خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں۔تم ان سب ذرائع کو اختیار کرو۔جتنی قربانی ممکن ہے وہ سب قربانی پیش کرو۔لیکن اگر اُس کا م کی تکمیل کے لئے بعض