تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 166
ساتھ ہے۔یہ وہ توکّل ہے جس کی اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے یعنی پورے سامان استعمال کرو اور اُس کے بعد خدا تعالیٰ پر کا مل یقین رکھو اور چاہے کچھ ہوجائے یہ سمجھ لو کہ خدا ہمیں نہیں چھوڑےگا مگر ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ طریق رائج ہے کہ جب ہمارے کسی کام کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا تو ہم اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہم نے تو محنت کی تھی لیکن اُس کا نتیجہ نکالنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں تھا۔اگر اُس نے نہیں نکالا تو اُس میں ہمارا کیا اختیار ہے۔اس طرح ہم اپنی کمزوریو ں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کا نام اتنا غلط استعمال کیا ہے کہ انہوں نے دین کی کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی کسی زمانہ میں جب مسلمان کہتے تھے کہ اس گھر میں خدا ہی خدا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس گھر میں خدا تعالیٰ کی برکت پائی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی حکومت اس گھر میں ہے لیکن آج کل جب لوگ کہتے ہیں کہ اس گھر میں اللہ ہی اللہ ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس گھر میں کوئی چیز نہیں۔گویا جن الفاظ کو خدا تعالیٰ کی حکومت اور اس کی طاقت اور قوت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا انہیں اب نفی اور صفر کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔یہی معاملہ ہم نے توکّل سے کیا ہے۔ہم ایک کام کرتے ہیں اور جب اس کے لئے غلط طریق اختیار کرتے ہیں۔اُس کے لئے کمزور محنت کرتے ہیں یا اُس سے قطعی غفلت کا معاملہ کرتے ہیں اور لازمًا اُس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے تو اس کا الزام خدا تعالیٰ کو دے دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں اس کا موجب خدا ہے۔ہم نے تو اپنا پورا زور لگا دیا تھا اور مقدور بھر محنت بھی کی تھی۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہمارا بیڑہ غرق کر دیا۔گویا نعوذ باللہ ہر اچھا کام ہم سے سرزد ہوتا ہے اور بیڑہ غرق کرنا خدا تعالیٰ کے ذمے ہے۔اور اگر وہ بیڑہ غرق کرنےوالا نہیں بلکہ بیڑہ تیرانے والا ہے تو بیڑہ غرق ہم کرتے ہیں اور اپنی نادانیوں اور غفلتوں پر پردہ ڈالنےکے لئے اُسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اگر واقعہ میں ہم محنت کریں اور قربانی سے کام لیں اور خدا تعالیٰ پر توکّل بھی رکھیں تو ممکن نہیں کہ اس کا اعلیٰ نتیجہ پیدا نہ ہو۔اور اگر ہمارے کسی کام کا اعلیٰ نتیجہ نہیں نکلتا تو ہمارا بیڑہ خدا تعالیٰ نے غرق نہیں کیا بلکہ ہم نے خود کیا ہے۔اگر مسلمان اس نکتہ کو سمجھ لیں اور اُن کے اعمال کے جو اچھے نتائج نکلیں وہ انہیں اپنی طرف نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور ناکامی کو اپنی طرف منسوب کریں تو ان کی کایا پلٹ جائے۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ (الشعراء:۸۱) کہ جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے یعنی بیماری میری طرف سے آتی ہے اور شفا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔اس میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نیک بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرو۔اور ہر بری بات اپنی طرف منسوب کیا کرو۔جب تک تمہارے اندر