تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 159
تعلیم پر متواتر عمل کیا۔یہودی اور عیسائی ان کو خدا کا نبی سمجھتے ہیں اور تورات کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیح ؑظاہر ہوئے۔اُن کی یہ تعلیم تھی کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا۔بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے ( متی باب ۵ آیت ۳۹) اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعویٰ کیا کرتی ہے کہ مسیح ؑ نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں۔مثلًا انجیل میں لکھا ہے۔’’ یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں۔صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں۔‘‘ ( متی باب ۱۰ آیت ۳۴) اسی طرح لکھا ہے کہ اُس نے کہا : ’’ جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے۔‘‘ ( لوقا باب ۲۲ آیت ۳۶) یہ آخری دو تعلیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں اگر مسیح جنگ کروانےکے لئے آیا تھا تو پھر ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کے کیا معنے تھے ؟ پس یا تو یہ دونوں قسم کی تعلیمیں متضاد ہیں یا ان دونوں تعلیموں میں سے کسی ایک کو اس کے ظاہر سے پھر ا کر اُس کی کوئی تاویل کرنی پڑے گی۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کی تعلیم قابلِ عمل ہے یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ عیسائی دنیا نے اپنی ساری تاریخ میں جنگ سے دریغ نہیں کیا۔جب عیسائیت شروع شروع میں روما میں غالب تھی تب بھی اُس نے غیر قوموں سے جنگیں کیں۔دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی۔اور اب جبکہ عیسائیت دنیا میں غالب آگئی ہے اب بھی وہ جنگیں کرتی ہے۔دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی۔صرف فرق یہ ہے کہ جنگ کرنےوالوں میں سے جو فریق جیت جاتا ہے۔اس کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ کرسچن سویلزیشن کا پابند تھا۔کرسچن سویلزیشن اس زمانہ میں صرف غالب اور فاتح کے طریق کا ر کا نام ہے ورنہ اس لفظ کے حقیقی معنے اب کوئی باقی نہیں رہے۔جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو ہر قوم اس بات کی مدعی ہوتی ہے کہ وہ کرسچن سویلزیشن کی تائید کر رہی ہے اور جب کوئی قوم جیت جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس جیتی ہوئی قوم کا طریقِ کار ہی کر سچن سویلزیشن ہے۔حالانکہ کرسچن سویلزیشن کوئی چیزہی نہیں ایک غلط لفظ ہے جس کے کوئی بھی معنے نہیں۔مگر بہر حال مسیح کے زمانہ سے آج تک عیسائی دنیا جنگ کرتی چلی آرہی ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ جنگ کرتی چلی جائےگی۔پس جہاں تک مسیحی دنیا کے فیصلہ کا تعلق ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’ تم اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدو۔‘‘ اور یہ کہ’’ میں صلح کرانے کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں۔‘‘یہ اصل قانون ہے اور ’’ تو ایک