تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 160
گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دے۔‘‘ یہ قانون یا تو ابتدائی عیسائی دنیا کی کمزوری کے وقت مصلحتاً اختیار کیا گیا تھا اور یا پھر عیسائی افراد کے باہمی تعلقات کی حد تک یہ قانون محدود ہے حکومتوں اور قوموں پر یہ قانون چسپاں نہیں ہوتا۔چنانچہ بعض پادری اس کی یہی تاویل کرتے ہیں۔دوسرے اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ مسیح ؑ کی اصل تعلیم جنگ کی نہیں تھی بلکہ صلح ہی کی تھی تب بھی اس تعلیم سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص اس تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے وہ خدا کا برگزیدہ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ عیسائی دنیا آج تک موسیٰ اور یشوع اور دائود کو خدا کا برگزیدہ قراد دیتی ہے۔بلکہ خو دعیسائیت کے زمانہ کے بعض قومی ہیرو جنہوں نے اپنی قوم کے لئے جان کو خطرہ میں ڈال کر دشمنوں سے جنگیں کی تھیں انہیں مختلف زمانہ کے پوپوں کے فتویٰ کے مطابق آج سینٹ کہا جاتا ہے۔لیکن اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان درمیان تعلیم دیتا ہے۔وہ نہ تو موسیٰ ؑ کی طرح یہ کہتا ہے کہ تُو جارحانہ طورپر کسی ملک میں گھس جااور اس قوم کو تہ تیغ کر دے اور نہ وہ اس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح ببانگ ِ بلند تو یہ کہتا ہے کہ ’’ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طر ف پھیر دے ‘‘ اور اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار خرید لو۔بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے قیام کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ تو کسی پر حملہ نہ کر۔لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اُس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو۔تب تُو اُس حملے کا جواب دے۔اب بتائو کہ کیا یہ ظالمانہ تعلیم ہے یا یہی وہ تعلیم ہے جس پر عمل کر کے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔اس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اُٹھاتے رہے لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔جب مدینہ میں آپ ؐ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے۔اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے وضاحتًا ہدایت دےدی کہ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبَّ الْمُعْتَدِیْنَ( البقرۃ :۱۹۱) یعنی اُن لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں محض اللہ تعالیٰ کی خاطر جس میں تمہارے اپنے نفس کا غصہ اور نفس کی ملونی شامل نہ ہو جنگ کر و۔اور یاد رکھو کہ جنگ میں بھی کوئی ظالمانہ فعل نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔پھر فرمایا قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِيْنَ۔وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ( الانفال :۳۹۔۴۰)یعنی اے محمد رسول اللہ اگر یہ لوگ