تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 158

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ اب ان کفار کے مظالم کا جنہوں نے تلوار سے اسلام کو مٹانا چاہا ہے تلوار سے ہی جواب دیا جائے تاکہ دین اور مذہب کی اشاعت کے راستہ میں انہوں نے جو روکیں پیدا کر رکھی ہیں وہ دُور ہوں۔پس یہ جنگیں محض دفاعی اور دشمن کے ظالمانہ حملوں کے جواب میں تھیں۔چنانچہ اسلام نے صاف طور پر کہہ دیا کہ تم صرف اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور اُس وقت تک لڑو جب تک وہ تم سے لڑتے ہیں ( البقرۃ ع ۲۵) اور دفاع کے طور پر تلوار چلانا ہر گز ناپسندیدہ نہیں ہو سکتا۔اگر اسلام تلوار سے پھیلا تھا تو تلوار چلانے والے اُس کے پاس کہاں سے آگئے تھے۔اور جس مذہب نے ایسے تلوار چلانے والے پیدا کر لئے تھے کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے سارے ملک کی مخالفت کے باوجود اس کو دنیا میں قائم کر دیا اُس مذہب کے لئے کیا یہ مشکل تھا کہ وہ دلائل کے زور سے دوسرے لوگوں سے بھی اپنی صداقت منوا لیتا۔مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ عیسائی مستشرق جو اسلام کو تلوار کا مذہب قرار دیتے ہیں خود اُن کی اپنی کتابوں میں کیا تعلیم دی گئی ہے اور اُن کے مسلمہ انبیاء اس اصل کے ماتحت کہاں تک راستباز اور صادق سمجھے جا سکتے ہیں۔تورات جس کے متعلق مسیح ؑ نے کہا تھا کہ اس کا ایک شوشہ تک نہیں بدل سکتا ( متی باب ۵ آیت ۱۸) اُس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ اگر کسی شہر کے باشندے تجھ سے لڑائی کریں تو ’’ تُو اُس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر۔مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اُس شہر میں ہو اُس کا سار ا لوٹ اپنے لئے لے اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دی ہے کھائیو۔اسی طرح سے تُو اُن سب شہروں سے جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہروں میں سے نہیں ہیں یہی حال کیجئیو۔لیکن ان قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑ یو۔بلکہ تُو اُن کو حرم کیجئیو۔حِتّی اور اموری اور کنعانی اور فزاری اور جوّی اور یبوسی کو جیسا کہ خداوند تیرے خدا نے حکم کیا ہے تاکہ وے اپنے سارے کریہہ کاموں کے مطابق جو انہو ں نے اپنے معبودوں سے کئے تم کو عمل کرنا نہ سکھائیں اور کہ تم خداوند اپنے خدا کے گنہگار ہو جائو۔‘‘ ( استثنا باب۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۸) مگر باوجود اس کے کہ موسیٰ ؑنے یہ تعلیم دی اور باوجود اس کے کہ یشوع اور دائود او ر دوسرے انبیاء نے اس