تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 124
صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا١ۖٞ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا میں خوب پھیلا دیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔لیکن لوگوں میں سے اکثر لوگ کفر کے سوا کسی بات پر راضی كُفُوْرًا۰۰۵۱وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًاٞۖ۰۰۵۲ نہیں ہوتے۔اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ہوشیار کرنےوالا (نبی یا مامور) بھیج دیتے۔پس تو کافروں کی بات فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا۰۰۵۳ نہ مان اور اس (یعنی قرآن) کے ذریعہ سے ان سے بڑا جہاد کر۔تفسیر۔فرماتا ہے وہ خدا ہی ہے جو بارشوں سے پہلے لوگوں کو بشارت دینےکے لئے ہوائیں بھیجتا ہے اور بادلوں سے پاک کرنے والا پانی نازل کرتا ہے۔جس کے نتیجہ میں مردہ بستیاں بھی زندہ ہو جاتی ہیں۔اور ہم اس پاکیزہ پانی سے جانوروں اور بہت سے انسانوں کو سیراب کرتے ہیں اور یہ سب نصیحت کی باتیں ہیں جن کو ہم انسانوں کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ ہدایت حاصل کریں۔یعنی جسمانی پانی کو دیکھ کر وہ سمجھ لیں کہ خدا تعالیٰ نے روحانی پانی بھی اُتار اہوگا۔لیکن لوگ جسمانی پانی کی تو قدر کرتے ہیں مگر روحانی پانی سے انکار کر دیتے ہیں۔اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں اپنا رسول بھیج دیتے مگر ہم رسول صر ف ایک ہی بستی میں بھیجتے ہیں جہاں سے وہ سارے علاقہ میں تبلیغ کرتا ہے۔پس اے ہمارے رسول ! تو کا فروں کی بات نہ مان اور اس قرآن کے ذریعہ اُن سے جہاد کبیر کر۔ان آیات میں کلام الٰہی سے تشبیہہ دینےکے لئے پہلے پانی کا ذکر کیاگیا ہے۔اور بتا یا گیا ہے کہ جس طرح جسمانی پانی کو لوگوں میں پھیلادیتے ہیں اور مردہ بستیوں کو اس کے ذریعہ زندہ کر دیتے ہیں۔اسی طرح ہم نے قرآن کریم کو اُن کے سامنے پیش کر دیا ہے مگر اکثر لوگ کفرانِ نعمت کرتے ہیں وہ پانی کی نعمت تو قبول کر لیتے ہیں مگر کلام الٰہی کی نعمت جو اس سے بہت زیادہ بہتر ہے اُسے ردّ کر دیتے ہیں۔گویا وہ کوڑیوں پر تو جان دیتے ہیں مگر اشرفیاں قبول کرنےکے لئے تیار نہیں ہوتے اور یہ بالکل بچوں والی بات ہے۔میں ایک دفعہ بمبیٔ گیا تو وہاں اُن دنوں عدالت میں ایک تازہ کیس چل رہا تھا جو اس طرح ہوا کہ کسی جوہری کے ساٹھ ہیرے جو کئی لاکھ روپیہ کی مالیت کے تھے کہیں گر گئے۔اُس نے پولیس میں رپورٹ کر دی۔پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے ایک آدمی کو پکڑ لیا۔جس سے کچھ ہیرے بھی بر آمد ہوگئے۔جب اس سے پوچھا گیاکہ اُس نے یہ ہیرے کہاں سے لئے تھے تو اُس نے