تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 123
حالت کے متعلق استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ دماغ پر حاوی ہو کر سارے جسم پر مستولی ہو جاتی ہے۔وَقِیْلَ اَصْلُہٗ اَلرَّاحَۃُ۔اور بعض ماہرین لُغت یہ کہتے ہیں کہ سبات کے اصل معنے راحت اور آرام کے ہیں۔( اقرب ) تفسیر۔اس میں بتا یا کہ رات اور دن کا تسلسل اور انسانی نیند بھی خدا تعالیٰ کے احسانات کا ایک ظہور ہیں۔رات تو انسان کے لئے لباس کا کام دیتی ہے اور اُس کے بہت سے عیوب کو ڈھانپ لیتی ہے چنانچہ سوتے وقت کی کئی حالتیں ایسی ہوتی ہیں جو اگر دن کے وقت ظاہر ہوں تو لوگوں کو بہت معیوب دکھائی دیں۔مگر رات کی تاریکی کی وجہ سے وہ دوسروں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔کیونکہ وہ خود بھی اُس وقت سو رہے ہوتے ہیں۔اور اس طرح انسان کے کئی نقائص پر پردہ پڑارہتا ہے۔اسی طرح نیند انسانی راحت اور آرام کا موجب بنتی ہے۔اور جسم نئے سرے سے طاقتیں حاصل کر لیتا ہے۔اگر نیند نہ آئے تو انسان چند دنوں میں ہی پاگل ہو جائے یہ نیند ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کی تمام طاقتیں برقرار رہتی ہیں اور وہ ہر صبح تازہ دم ہو کر اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔پھر فرماتا ہے وَجَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا اُس نے دن کو انسانوں کے اِدھر اُدھر پھیلانے کا ذریعہ بنایا ہے۔چنانچہ وہ اس کی روشنی میں چاروں طرف دوڑے پھرتے اور اپنی معیشت کا سامان مہیا کر تے ہیں۔یہی رات اور دن کا تسلسل ہمیں قومی زندگی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔کبھی قوموں پر لیل کا زمانہ آتا ہے اور کبھی نہار کا۔زمانۂ لیل میں اُن کے تمام عیوب مخفی رہتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کا کوئی مامور اور مصلح کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ ایک نیا دن چڑھتا ہے تو صرف دوسرے لوگوں کو ہی اُن کے عیوب نظر نہیں آتے بلکہ خود انہیں بھی اپنی خامیاں محسوس ہونے لگتی ہیں اور اُن کے اندر اصلاح کا ایک نیا جذبہ پیدا ہونے لگتا ہے۔اور رفتہ رفتہ وہ بھی ترقی کر جاتے ہیں۔وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ١ۚ اور وہ( خدا) ہی ہے جس نے ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے بشارت دینے کے لئے بھیجا۔اور ہم نے باد ل وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ۰۰۴۹لِّنُحْيِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّ سے پاک (و صاف) پانی اتار ا ہے۔تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ ملک کو زندہ کریں اور اسی طرح اُس (پانی) سے نُسْقِيَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِيَّ كَثِيْرًا۰۰۵۰وَ لَقَدْ اپنے پیدا کئے ہوئے چارپائیوں اور بہت سے انسانوں کو سیراب کریں۔اور ہم نے اُس (پانی) کو اُن( یعنی انسانوں)