تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 125

بتا یا کہ میں بازار میں سے گذر رہا تھا کہ چند لڑکے ان ہیروں سے گولیاں کھیل رہے تھے۔میں نے انہیں دو چار پیسے دےکر ہیرے لے لئے۔بعد میں معلوم ہو اکہ اُس جوہری نے کسی موقعہ پر اپنی جیب میں سے رومال نکالا تو یہ ہیرے جو ایک پڑیہ میں تھے اُس کے ساتھ ہی نکل کر زمین پر گر گئے۔اور بچوں نے یہ سمجھا کہ یہ کھیلنے کی گولیاں ہیں حالانکہ وہ کئی لاکھ روپے کا مال تھا۔یہی حال لوگوں کا ہے۔وہ اُس پانی کی تو قدر کریں گے جو سڑ جاتا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ناکارہ ہو جاتا ہے۔مگر جو پانی اُن کے اور اُن کی آئندہ نسلوں کے کام آنے والا ہے اور جو نہ صرف اس زندگی میں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا او رانسان کی کایا پلٹ دیتا ہے اُس کو رّد کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں لیتے۔لوگوں کی اسی کیفیت کا اللہ تعالیٰ ان زیر تفسیر آیا ت میں ذکر کرتا اور فرماتا ہے کہ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۔اکثر لوگ ہماری اس عظیم الشان نعمت کا کفر ہی کرتے ہیں۔حالانکہ اگر ہم چاہتے تو دنیا کی ہر بستی میں نذیر بھیج دیتے۔یعنی اگر ہم لوگوں پر جلدی حجت تمام کرنا چاہتے تو بجائے اس کے کہ ایک رسول بھیجتے اور اُس کی تعلیم آہستہ آہستہ پھیلتی ہر بستی میں ایک ایک نذیر بھیج دیتے مگر ہم نے ایسا کیوں نہیں کیا اس لئے کہ اگر سب لوگ کفر کرتے تو دنیا کی تمام بستیوں پر یکدم عذاب آجاتا اور سب لوگ ہلاک ہو جاتے۔مگر اب ایسا نہیں ہوتا بلکہ اب پہلے عرب پر اتمام حجت ہوتی ہے اور اُس پر عذاب آتا ہے۔پھر کچھ اور عرصہ گذرتا ہے تو ایران پر اتما م حجت کے بعد عذاب آجاتا ہے۔اگر ہر بستی اور ہر گائوں میں اللہ تعالیٰ کے نبی مبعوث ہوتے تو ہر بستی اور ہر گائوں پر وہ عذاب نازل ہوتا جو اَب براہ راست ایک حصۂ زمین کے مخالفوں پر نازل ہو تاہے۔پس فرماتا ہے توان کافروں کی باتیں نہ مان بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سب دنیا کے ساتھ جہاد کر جو سب سے بڑا جہاد ہے یعنی تبلیغ کا جہاد جس کے قریب جانے سے بھی آج کل کے مسلمان کا دم گھٹتا ہے۔وہ اس جہاد سے تو اس بہانہ سے بھاگتا ہے کہ اصل جہاد تلوار کا ہے۔اور تلوار کے جہاد سے اس لئے بھاگتا ہےکہ دشمن بہت طاقتور ہے مولوی فتویٰ دیتا ہے کہ اے مسلمانو! بڑھو اور لڑو اور مسلمان کہتے ہیں کہ اے علماء کرام آپ آگے بڑھیں اور لڑیں کیونکہ آپ ہمارے لیڈر اور راہنماہیں۔اور پھر دونوں اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگتے ہیں۔حالانکہ خدا نے ہمیں وہ تلوار دی ہے جسے کبھی زنگ نہیں لگ سکتا۔اور جو کسی لڑائی میں بھی نہیں ٹو ٹ سکتی۔تیرہ سو سال گذر گئے اور دنیا کی سخت سے سخت قوموں نے چاہا کہ اس تلوار کو توڑ دیں۔اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اسے ہمیشہ کے لئے ناکارہ بنا دیں مگر یہ تلوار اُن سے نہ ٹوٹ سکی۔یہ وہ قرآن ہے جو خدا نے ہم کو دیا ہے اور یہ وہ تلوار ہے جس سے ہم ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔فرماتا ہے جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا۔تلوار کا جہاد اور نفس کے ساتھ جہاد اور دوسرے اور جہاد سب چھوٹے ہیں۔صرف قرآن کا جہاد ہی ہے جو سب سے