تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 95

اللہ تعالیٰ ان کی تباہی کے سامان کرےگا۔پھرباب ۴۰ سے آگے وہ یروشلم کے دوبارہ بنائے جانے کی تفصیلیں بیان کرتا ہے سارے باب اس کی کتاب کے ۴۸ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تینوں نبیوںکا ذکر کرکے فرماتا ہے کہ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ اور اس سے اشارہ کرتا ہے کہ ایوب ؑ کے بعد ہم نے ان تینوں نبیوں کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ بھی صابرتھے اور ایوب ؑ سے مصیبت برداشت کرنے میںمشابہت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت اسماعیل ؑ کو اپنے باپ اورملک کی جدائی اختیار کرنی پڑی اور ادریس ؑ اور ذوالکفل ؑ کو بھی مختلف مصائب اور آفات میں سے گذر نا پڑا جیسا کہ ان کے حالات سے ظاہر ہے۔وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۸۷ اورہم نے ان سب کو اپنی رحمت میںداخل کیا تھا اور وہ سب نیکوکار تھے۔تفسیر۔اس میںیہ بتایا ہے کہ یہ لوگ صابر بھی تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان پررحمتیںبھی بڑی نازل کی تھیں جس طرح حضرت سلیمان ؑ اور حضرت ایوب ؑ کو بڑی دنیوی عزت بھی دی تھی۔اسی طرح ان تینوں انبیا ء کوبڑی دنیوی عزت بھی بخشی گئی تھی۔مگر ان پرمصائب بھی بڑے آئے۔وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ اور ذا النّون( یعنی یونس ؑکو بھی یاد کر)جب وہ غصہ کی حالت میںچلاگیااوردل پُریقین تھا کہ ہم عَلَيْهِ فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ اس کو تنگ نہیںکریںگے پس مصائب میں اس نے ہم کو پکارا (اور کہا) کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَۚۖ۰۰۸۸فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ تو پاک ہے۔میںیقیناً ظلم کرنے والوں میںسے تھا پس ہم نے اس کی دعا کو سنا اورغم سے اسے نجات دی۔