تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 94

باب ۲۹ میں وہ مصر کی نبو کد نضر کے مقابلہ میں ایک زبردست شکست کی خبر دیتا ہے مگر چالیس سال کے بعد وہ پھراس کے بحال ہونے کی بھی خبر دیتا ہے۔باب ۳۷ آیت ۱تا ۱۴ میں وہ اپنی ایک خواب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارہ میں دیکھا اس خواب کا ذکر سورئہ بقرہ ع۳ میںبھی آتا ہے جہاں فرماتا ہے۔اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۲۶۰) یعنی اس شخص کے واقعہ پر غور کرو جو ایک ایسے شہر کے پاس سے گذرا جس کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گراہو اتھا۔اس کو دیکھ کر اس شخص نے کہاکہ اللہ تعالیٰ اس شہر کی ویرانی کے بعد اسے کب آباد کرےگا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے سوسال تک خواب میں مردہ رکھا پھر اسے اٹھایا اور فرمایا اے میرے بندے تو کتنے عرصہ تک اس حالت میں رہا اس نے کہااے میرے رب میںاس حالت میں صرف ایک دن یادن کاکچھ حصہ رہا ہوںتب اللہ تعالی ٰنے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔اور تو اس حالت میں سوسال تک بھی رہا ہے۔اب تو اپنے کھانے اور پینے کے سامان کی طرف دیکھ وہ سڑانہیںاور اپنے گدھے کی طرف بھی دیکھ اور ان دونوں کاسلامت رہنا دیکھ کر سمجھ لے کہ تیرا خیال بھی اپنی جگہ درست ہے اور ہماری بات بھی اور ایسا ہم نے اس لئے کیا ہے تاکہ تجھے لوگوں کے لئے ایک نشان بنائیںاور تو ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم انہیں کس طرح اپنی اپنی جگہ رکھ کر جوڑتے ہیں پھرجب اس پر حقیقت پورے طور پر ظاہر ہو گئی۔تو اس نے کہا۔میںعلی وجہ البصیرت جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔عوام یہودیوں نے اس خواب کے یہ معنے لئے ہیںکہ حزقیل گویا مردے زندہ کرتے تھے لیکن چوٹی کے علماء نے یہ تشریح کی ہے کہ درحقیقت یہ ایک خواب تھا(Peaks Commentary on the Holy Bible under word Ezekiel) یہی غلط فہمی قرآن کریم کی اس آیت کے متعلق بھی ہوئی عام طور پر لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ سورئہ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت میںمردہ کے زندہ کرنے کا ذکر ہے۔حالانکہ مردہ زندہ کرنے کا ذکر نہیں۔ایک مردہ قوم کے زندہ ہونے کا ذکر ہے۔باب ۳۸،۳۹میں وہ یاجوج ماجوج کی خبر دیتاہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح وہ دنیا پر چھاجائیںگے لیکن آخر