تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 96
نَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِي الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۸۹ اور ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلنُّوْن۔کے معنے ہیںاَلْحُوْتُ یعنی مچھلی۔(اقرب)پس ذَاالنُّوْنِ کے معنے ہوئے مچھلی والا۔ظَنَّ۔ظَنَّ الشَّیْءَکے معنے ہوتے ہیںعَلِمَہ وَاسْتَیْقَنَہ کسی چیز کو معلوم کرلیااور اس کا یقین کرلیا (اقرب) نَقْدرَ عَلَیْہِ۔نَقْدِرَ عَلَیْہِ قَدَرَ سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے اور قَدَرَاللہُ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں قَضٰی و حَکَمَ بِہٖ عَلَیْہ اللہ نے اس کے خلاف فیصلہ کیا۔او رقَدَرَ عَلٰی عَیَالِہٖ کے معنے ہیں ضَیَّقَ اس نے اہل وعیال پر تنگی کی (اقرب ) پس لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ کے معنے ہوںگے (۱) ہم تنگی نہیںکریںگے (۲) ہم اس کے خلاف فیصلہ نہیںدیںگے۔تفسیر۔اب یونسؑ نبی کاحال بیان کرتاہے کہ وہ بھی ان سب نبیوں سے مشابہت رکھتے تھے ان کو بھی ایک وقت میںتکالیف پہنچیں مگر دوسرے وقت میں خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی عزت بخشی۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ایک دفعہ وہ ناراض ہوکر اپنے ملک سے نکل گئے مگر دل پُریقین تھاکہ ہم اس پر تنگی نازل نہیں کریںگے چنانچہ مصیبت کے وقت انہوںنے اللہ تعالیٰ کو پکارا کہ اے خداتیرے سوا کوئی معبود نہیںتو پاک ہے غلطی مجھ سے ہی ہوئی ہے۔بائیبل کی کتاب یوناہ میں(یوناہ باب ۱ آیت ۲)یونس نبی کا حال اس طرح درج ہے کہ خدا کی طرف سے ان کو نینوا کی طرف جو ایک بڑا اور شرارتی شہر تھا جانےکا حکم ہو ااور کہا گیا کہ وہ اس کے خلاف پیشگوئی کریں۔مگر حضرت یونس ڈرے کہ نینوا والے توبہ کرلیں گے اور عذاب سے بچ جائیںگے پس وہ نینوا جانے کی بجائے یافاچلے گئے اور ترشیش کی طرف جانے والے ایک جہاز میںسوار ہوگئے لیکن دفعۃًجہاز کو طوفان نے آگھیر ا۔ملاحوں نے دیوتائوں سے بہت دعائیں کیںمگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر قرعہ ڈال کر انہوں نے معلوم کرناچاہا کہ یہ عذاب کس کے سبب سے آیا ہے۔اس پر حضرت یونس علیہ السلام کانام قرعہ میں نکلااور انہوں نے ان سے جاکر حال پوچھا۔انہوں نے اپنا سب حال بتایا اور کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے حکم سے بھاگا ہوں مجھے پانی میںپھینک دو اس طرح عذاب سے محفوظ رہوگے۔چنانچہ لوگوں نے انہیں پانی میںپھنک دیااور طوفان تھم گیا۔خدا تعالیٰ نے ایک مچھلی کوحکم دیااور وہ حضرت یونس علیہ السلام کو نگل گئی۔اس کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام تین دن رات رہے آخر ان کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیںاگل دے چنانچہ مچھلی نے ان کواگل دیا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ