تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 93

پہنچایا۔باب ۵ میں بتایا گیا ہے کہ حزقیل کو استرے سے اپنے سر اور ڈاڑھی کے بال منڈوانے کاحکم دیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہودی ڈاڑھی تو رکھتے تھے مگر اسے کوئی ضروری چیز نہیں سمجھا جاتا تھا۔باب ۶ میںحزقیل بتاتاہے کہ توحیدکی مخالفت کی وجہ سے یہود تباہ کئے جائیںگے مگر تھوڑے سے لوگ بچائے جائیںگے۔باب ۷ میں وہ پھر بنی اسرائیل کی تباہی کی خبر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی جماعت جب بگڑتی ہے تو غیر قوموں کو اس پر مسلط کیاجاتا ہے اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ غیرقومیں خود بھی بری ہیں۔وہ خواہ کتنی ہی بگڑی ہوئی ہوں سچی کتاب سے تعلق رکھنے والی جماعت پر ان کو مسلط کردیاجاتا ہے تاکہ نبی کی جماعت توبہ کرے اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔باب ۹میں وہ بتاتا ہے کہ جو لوگ سچے دین سے تعلق رکھ کر بگڑتے ہیں ان کے حق میںشفاعت بھی قبول نہیں کی جاتی۔باب ۱۱میں وہ بتاتا ہے آخر بنی اسرائیل کو نجات دی جائےگی اور وہ بابل کی حکومت کی قید سے آزاد ہوجائیںگے۔باب ۱۲ میں وہ یہودیوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ الٰہی کلام پر تمسخر اڑاتے ہیں اور پیشگوئیوں کو فضول قرار دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ حزقیل کی پیشگوئیوں کو سچا کرکے یہودیوں کو جھوٹا کرےگا۔اس باب میںایک آیت قرآن کریم کی ایک آیت کے نہایت ہی مشابہ ہے فرماتا ہے۔’’جن کی آنکھیںہیںکہ دیکھیںپروہ نہیںدیکھتے او ر ان کے کان ہیں کہ سنیں پروہ نہیں سنتے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔‘‘(آیت ۲) قرآن کریم میںآتا ہے وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ(الاعراف:۱۸۰) یعنی ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ دیکھتے نہیں اوران کے کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں۔وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں کیونکہ جانور تو پھر بھی کچھ سن لیتا ہے اور کچھ دیکھتا ہے۔مگر یہ روحانی اندھے اور روحانی بہرے نہ کچھ دیکھتے ہیں اور نہ کچھ سنتے ہیں۔باب ۱۳ میں وہ ان لوگوں کو ملامت کرتاہے جو کہ جھوٹے طورپر خدارسیدہ بنتے ہیں۔