تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 3
اس کے بعد منکرایک قدم اور آگے بڑھتےہیںاور کہتے ہیںکہ بیہودہ خوابیںاسے نظر آتی ہیں بلکہ یہ سر تاپا جھوٹ بناتاہے اور اس جھوٹ کو شاعرانہ زبان میں پیش کرکے لوگوں کو دھوکا دیتاہے اسے چاہیے کہ پہلوںکی طرح عذاب لائے۔فرماتا ہے کہ سب نبی انسان ہی تھے اس لئے اب بھی انسان ہی آیا چنانچہ پہلی کتب میںپڑھ کر دیکھ لو کہ پہلے رسول بھی انسان ہی تھے۔ذرا پوچھ کر تو دیکھو۔ہر اک کھانا کھاتاتھا اور آخر مرا (جن میںمسیح ؑ بھی شامل تھا ) اور پھر ان کے منکروں کو ہم نے تباہ کردیا۔(آیت ۶ تا ۱۰) ان لوگوں کو یہ سوچناچاہیے کہ قرآن کریم ان پر کیا بوجھ ڈالتاہے۔اس کے ذریعہ سے ان کی عزت کے سامان ہی پید اہوتے ہیں۔(آیت ۱۱ ) اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی سچائیوں کے منکر ہوتے ہیںعذاب ہی پاتے ہیں۔(آیت ۱۲ تا ۱۶ ) کبھی یہ بھی ان لوگوں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ جیسی حکیم ہستی دنیا کو بلاغرض نہیںپیدا کر سکتی تھی یعنی صرف ایک کھلونے کے طور پر۔لیکن کھلونا بھی تو کھیلنے والا اپنے پاس رکھتاہے نہ کہ دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔جیسا کہ یہ دنیا انسانوں کے سپرد کردی گئی ہے۔پس یاد رکھو کہ ہم حق کو باطل سے ٹکرا دیں گے اور باطل کو تباہ کر دیں گے۔(آیت ۱۷تا ۱۹) زمین و آسمان پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہے اور اس کے قریب جتنا کوئی ہو اتنا ہی وہ متواضع اور عبادت کی طرف راغب ہوتاہے۔(آیت ۲۰،۲۱ ) جب ساری دنیا میںایک ہی قانون ہے تو شرک کا مسئلہ یہ لوگ کہاں سے نکالتے ہیںشرک سے تو اختلاف لازمی ہے اور تمام انبیا ء شرک کے خلاف تعلیم دیتے آئے ہیں پس دنیا بھر میںایک قانون کا ہونا ثابت کرتاہے کہ جو مشرکانہ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیںان سے وہ پاک ہے (خدا تعالیٰ کی طرف شرک عیسائیت کی طرف سے اسی بنا پر منسوب کیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ گناہ معاف نہیںکر سکتا۔اس کے لئے بیٹے کی قربانی کی ضرورت تھی لیکن اللہ تعالیٰ تو مالک کامل ہے اور مالک کامل پر عفو کرنے کی وجہ سے کوئی الزام نہیںآتا ) پھر فرماتا ہے کہ مسیحی لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی معبود ہیں جیسے روح القدس اور مسیح ؑ۔یہ درست نہیں خداایک ہی ہے۔اور یہ تعلیم میںہی نہیںدیتابلکہ مجھ سے پہلے جتنے رسول گذرے ہیں سب یہی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کیا ابراہیم ؑاور کیا اسحاق ؑاور کیا موسیٰ ؑبائیبل اس سے بھری پڑی ہے۔(آیت ۲۲ تا۲۵ ) پہلے زمانوں میںبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دینے والے انسان ہی آتے رہے ہیں۔مسیح کی طرح خدا