تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 2
سورئہ انبیاء کے شروع میں یہ فرمایا گیا ہے کہ لوگوںکےحساب کا وقت قریب آگیا ہے لیکن وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیںاور برابر انکار کئے جاتے ہیں۔گویا عذاب کی خبر کے متعلق جو کچھ سورئہ طٰہٰ کے آخر میںکہا گیا تھا اسے سورئہ انبیاء میں جاری رکھا گیا ہے۔یہ تو اس کا قریبی تعلق ہے پچھلی کئی سورتوں کے تسلسل کے لحاظ سے اس کاتعلق پچھلی سورتوں سے یہ ہے کہ سورئہ مریم میںحضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا تھا کہ ان کے متعلق مسیحیوں کو غلطی لگی ہے کہ (۱) انہیں خدائی صفات دے دی ہیں۔(۲) ان کے ذریعہ سے شریعت کو منسوخ قرار دیاہے اور شریعت کو لعنت قرار دیا ہے (۳) اور نجات کو توبہ اور عمل صالحہ کی جگہ کفارہ سے وابستہ کردیاہے۔یہ غلطیاں ان کو حق سے دور لے گئی ہیں۔طٰہٰ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرکے ان دعووں کی نقلی تردید کی اور بتایا کہ مسیحی سلسلہ تو موسوی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔مگر موسیٰ کے حالا ت ان سب دعووں کی تردید کرتے ہیں اس کا سارا فخر تو شریعت لانے میںتھا۔اگر شریعت ایک لعنت ہے تو موسیٰ کا وجود قابل نفرت ہونا چاہیے نہ کہ قابل فخر پھر حضرت آدم ؑ کا ذکر کرکے گناہ کی تھیوری کو اس کی جڑ تک پہنچاکر اس امر کی تردید کی گئی کہ گناہ ورثہ کے ذریعہ سے قائم ہوا ہے اور پھر بتایا کہ بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزائیں ملتی ہیں اگر گنا ہ سے بچنا ممکن ہے تو پھر سزا کیسی ؟ پھر تو سزا آنی ہی نہیںچاہیے نبی سزا کوپکا کرنے کی جگہ اس کے امکان کو گھٹانے کے لئے آتے ہیں۔پس اگر شریعت لعنت ہے تو نبی سزا کے امکان کو گھٹاتانہیں بڑھاتا ہے۔سورئہ انبیا ء میںاسی مضمون کو لمباکر کے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک نہیںدو نہیںآدم ؑسے لے کر مسیح ؑ تک اور پھر محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام دشمنان انبیاء کو سزاملتی رہی ہے۔اگر گناہ ورثہ میں ملاہے۔اگر اس سے بچنے کی انسان میںتوفیق نہیں تو ایسا کیوں ہوا ؟ پس مسیح ؑکے آنے سے پہلے بعض اشخاص کابرگزیدہ ہونا اور بعض کاسزا پانا بتاتاہے کہ ورثہ کے گناہ کا عقیدہ محض ایک ڈھکو نسلہ ہے۔خلاصہء مضامین عذاب آرہاہے مگر یہ لوگ مختلف بہانوں سے اپنے نفس کو تسلی دے رہے ہیں۔(آیت ۲) کوئی بھی نیا پیغام لوگوں کو ہدایت دینے کے لئے نہیں آتا کہ یہ لوگ اس سے تمسخر نہ کرتے ہوں۔یعنی سب انبیاء نے لوگوں کو ہدایت کے لئے بلایا ہے اگر گناہ ورثہ میںملا ہے تو ہدایت کی طرف بلانے کے معنے ہی کیا ہوئے؟ کفار بے سوچے سمجھے انبیاء پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔مثلا ً یہ کہ یہ تمہارے جیسا انسان ہے (حالانکہ ہادی کااپنے مخاطبین جیسا انسان ہونا ہی ضروری ہے یہ آیت بھی ابن اللہ ہونے کے عقیدہ کو رد کرتی ہے) اس کی باتیں بڑی دلکش ہیںتم بڑے عقلمند ہو تم اس کے دھوکا میںکیوں آؤ گے۔ہمارا نبی اس کے جواب میںکہتاہے کہ میں کیا جواب دے سکتاہوں۔خدائے سمیع و علیم خود جواب دےگا۔(آیت ۳تا۵)