تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 4
کا کوئی بیٹا نہیںآیا پھر مسیحی کس طرح کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک انسان کو اپنا بیٹا بنالیاہے۔اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کیونکہ بیٹاایسی ہستیوں کے لئے ضروری ہوتاہے جنہوں نے مرجانا ہو لیکن اللہ تعالیٰ تو ہر عیب سے پاک ہے اور موت اس کے قریب بھی نہیںآتی اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔اسی طرح بیٹے کی خواہش ان ہستیوں میں ہوتی ہے جن کو مدد گاروں کی ضرورت ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کسی مدد گار کی ضرورت نہیں۔وہ سب کام آپ ہی کرسکتاہے۔وہ تو شروع دن سے اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو چن کر انہیںاپنی رسالت کے ساتھ عزت بخشا کرتاہے۔اسی طرح اس نے مسیح کو چنا اور عزت بخشی۔پس خدا تعالیٰ کے اس احسان کی بے قدری کرنا اور ایک بندے کو جس کو خدا نے عزت بخشی تھی اس کا بیٹا قرار دےکر اس کاہمسر بنادینا سخت ظلم ہے۔(آیت۲۶ ،۲۷ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے جتنے نبی آئے ہیں وہ تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع قرار دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلتے تھے درحقیقت مسیح بھی ایسا ہی تھا۔صرف مسیحیوں نے مبالغہ کرکے اس کو دوسرے نبیوں کی صف سے باہر نکال دیا ہے۔ورنہ وہ ایک برگزیدہ انسان تھا۔( آیت ۲۸،۲۹) پھر فرماتا ہے مشرک تو جہنم کاعذاب پاتاہے تم اپنے بزرگوں کی طرف الٰہی صفات منسوب کرکے ان کو جہنمی کیوں بناتے ہو۔(تعجب ہے کہ مسیحیوں نے اشارۃً نہیں بلکہ وضاحتاً اپنے عقیدہ کا یہ جزوبنالیا ہے کہ مسیح صلیب سے اتارے جانے کے بعد تین دن جہنم میں رہا۔لیکن قرآن فرماتا ہے کہ مسیح جہنمی نہیںتھا وہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور بخشا ہواانسان تھا ایسے برگزیدہ انسان کو تین دن چھوڑ تین سیکنڈ کے لئے بھی جہنمی قرار دینا ایک ظلم عظیم ہے )۔(آیت ۳۰) خدائی طریق یہ ہے کہ جب دنیا روحانیت سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ آسمان سے رحمت کے دروازے کھول دیتاہے۔اور الٰہی پانی سے دنیا میں ازسرنونیکی قائم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد آسمانی سلسلہ میں بڑے بڑے روحانی آدمی پیدا ہوتے رہتے ہیںجن کے ذریعہ سے نیکی کو قائم رکھا جاتاہے۔اور اللہ تعالیٰ کی امداد سے یہ کارخانہ چلتاہے۔او ررات اور دن دنیاپر آتے ہی رہتے ہیںکسی وقت سورج کام کرتاہے کسی وقت چاند۔یہی روحانی عالم کاحال ہے نہ ایک سال نیکی نہ ایک سال بدی۔پس یہ سلسلہ نیکی بدی اور تاریکی اور روشنی کادیکھ کر یہ خیال کرناکہ پیدائش عالم ناکام رہی ہے غلط ہے یہ سلسلہ تو طبعی ہے اور مادی دنیا بھی اس کے مطابق چل رہی ہے۔پھر اس پراعتراض کیسا اوراس کی وجہ سے کفارہ وغیرہ عقائد نکالنے کی ضرورت کیاہے (یہ عقیدے اسی خیال کے ماتحت ہیں کہ گویانبوت کا سلسلہ ناکام رہا ہے حالانکہ خود مسیح کے بعد بھی دنیا کا وہی حال رہا ہےنہ نیکی بڑھی ہے نہ بدی گھٹی ہے۔(آیت ۳۱،۳۴)