تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 580
سے کہا کہ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر غور کرو جو اس نے تم پر اُس وقت کیا تھا جب اُس نے تم میں نبی بھیجے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا کی معلوم قوموں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا یا ہے کہ یہود کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا اِذْجَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ کے ماتحت انہیں خلافت ِ نبوت دی اور جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا کے ماتحت انہیں خلافت ِ ملوکیت دی۔چونکہ موسیٰ ؑ کے وقت تک تو اور کوئی بادشاہ اُن میں نہیں ہوا اس لئے اس سے مراد یہ ہے کہ نبوتِ موسوی اور بادشاہت موسوی عطا کی جو دریائے نیل کو پار کرنے کے بعد سے ان کو حاصل ہو گئی تھی۔جیسا کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بھی تھے اور ایک لحاظ سے بادشاہ بھی تھے مگر آپ کی بادشاہت خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع تھی خود سربادشاہوں والی بادشاہت نہ تھی۔مگر ان دو قسم کی خلافتوں کے علاوہ نبی کے وہ جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہوں۔یعنی اُس کی شریعت پر قوم کو چلانےوالے اور اُن میں اتحاد قائم رکھنے والے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا غیرنبی۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام موعود راتوں کے لئے طُور پر گئے تو اپنے بعد انتظام کی غرض سے انہوں نے حضرت ہارون ؑ کو کہا کہ اُخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ (الاعراف :۱۴۳) یعنی میرے بعد میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ان کی اصلاح کو مدنظر رکھنا اور مفسد لوگوں کی بات نہ ماننا۔حضرت ہارون علیہ السلام چونکہ خود نبی تھے اور اس وقت سے پہلے نبی ہو چکے تھے اس لئے یہ خلافت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دی تھی وہ خلافت نبوت نہیں ہو سکتی تھی۔اس کے معنے صر ف یہ تھے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں اُن کی قوم کا انتظام کریں۔اور قوم کو اتحاد پر قائم رکھیں۔اور فساد سے بچائیں۔پس وہ ایک تابع نبی بھی تھے اور ایک حکمران نبی کے خلیفہ بھی تھے اور یہ خلافت خلافتِ نبوت نہ تھی۔بلکہ خلافت ِ انتظامی تھی مگر اس قسم کی خلافت بعض دفعہ خلافت ِ انتظامی کے علاوہ خلافت نبوت بھی ہوتی ہے یعنی ایک سابق نبی کی امت کی درستی اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایک اور نبی مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت کو ہی جاری کرتا ہے۔کوئی نئی شریعت نہیں لاتا گویا جہاں تک شریعت کا تعلق ہوتا ہے وہ پہلے نبی کے کام کو قائم رکھنے والا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے پہلے نبی کا خلیفہ ہوتا ہے۔لیکن عہدہ کے لحاظ سے وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے۔اس قسم کے خلفاء بنی اسرائیل میں بہت گذرے ہیں بلکہ جس قدر انبیاء حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے ہیں سب اسی قسم کے خلفاء تھے۔یعنی وہ نبی تو تھے مگر کسی جدید شریعت کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ہی دنیا میں جاری کرتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔