تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 581
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ( المائدۃ :۴۵) یعنی ہم نے تورات کو یقیناً ہدایت اور نور سے بھر پور اتارا تھا۔اس کے ذریعہ سے انبیاء جو (ہمارے) فرمانبردار تھے اور عارف اور ربانی علماء بہ سبب اس کے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر نگران تھے یہودیوں کے لئے فیصلے کیا کرتے تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کئی انبیاء ایسے آئے تھے جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا قیام تھا۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔لیکن ان انبیاء کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی جن کو ربانی اور احبار کہنا چاہیے اس کام پر مقرر تھے۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ انبیاء اور مجددین کا ایک لمبا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اُن کے خلفاء کے طورپر ظاہر ہوتا رہا جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کام کی تکمیل تھا۔اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تھے جن کو کئی مسلمان غلطی سے صاحب شریعت نبی سمجھتے ہیں (بحر محیط سورۃ اٰ ل عمران زیر آیت ویعلمہ الکتاب والحکمۃ۔۔۔)اسی طرح اس زمانہ کے مسیحی بھی اُن کی نسبت یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے اور اسی وجہ سے وہ اُن کی کتاب کو نیاعہد نامہ کہتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم مسیح ناصری علیہ السلام کو حضرت موسیٰ ؑکے دین کا قائم کرنے والاایک خلیفہ قرار دیتا ہے۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے چند آیات بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ( المائدۃ :۴۷)یعنی ہم نے مذکورہ بالا نبیوں کے بعد جو تورات کی تعلیم کو جاری کرنے کے لئے آئے تھے عیسٰی بن مریم کو بھیجا جو ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تھے اور تورات کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے تھے۔خود مسیح ناصری بھی فرماتے ہیں کہ ’’ یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کر نے آیا ہوں۔میں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہیں ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔‘‘ ( متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸) غرض یوشع سے لےکر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے معاً بعد اُن کے خلیفہ ہوئے حضرت مسیح ناصری ؑ تک سب انبیاء اور مجددین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور اُن کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔پس جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا کہ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ تو اس سے