تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 579

کے مشورہ کو قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف خدا تعالیٰ تیری راہنمائی کرے۔ان آیا ت میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسری جگہ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ( اٰل عمران :۱۶۰) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگوں نے غلطی سےلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ کے یہ معنے کئے ہیں کہ اے دائود ! لوگوں کی ہوا وہوس کے پیچھے نہ چلنا۔حالانکہ اس آیت کے یہ معنے ہی نہیں۔بلکہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ لوگوں کی اکثریت تجھے ایک بات کا مشورہ دے گی اور کہے گی کہ یُوں کرنا چاہیے مگر فرمایا تمہارا کام یہ ہے کہ تم محض اکثریت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو بات تمہارے سامنے پیش کی جارہی ہے وہ مفید ہے یا نہیں۔اگر مفید ہو تو مان لو۔اور اگر مفید نہ ہو تو اُسے رّد کردو۔چاہے اُسے پیش کرنےوالی اکثریت ہی کیوں نہ ہو۔بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ گناہ والی بات ہو۔پس پہلی خلافتیں اول خلافت ِ نبوت تھیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت دائود علیہ السلام کی خلافت تھی جن کو قرآن کریم نے خلیفہ قرار دیا ہے مگر ان کو خلیفہ صرف نبی اور مامورہونے کے معنوں میں کہا گیا ہے۔چونکہ وہ اپنے اپنے زمانہ کی ضرورت کے مطابق صفاتِ الٰہیہ کو دنیا میں ظاہر کرتے تھے اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ظل بن کر ظاہر ہوئے اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کہلائے۔دوسری خلافت جو قرآن کریم سے ثابت ہے وہ خلافت ِ ملوکیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت ہود علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(الاعراف:۷۰ )یعنی اس وقت کو یاد کرو جبکہ قوم نوح ؑ کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا اور اُس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولاد دی۔پس تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو تاکہ تمہیں کا میابی حاصل ہو۔اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام کی زبانی فرماتا ہے وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ ( الاعراف :۷۵) یعنی اس وقت کو یاد کرو جبکہ تم کو خدا تعالیٰ نے عاد اولیٰ کی تباہی کے بعد اُن کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آگئی۔اس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمتِ حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مدنظر رکھ کر تمام کا م کرو۔ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اللہ تعالیٰ اسی انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے کہ وَاِذْ قَالَ مُوْسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوْكًا وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِيْنَ (المائدۃ :۲۱) یعنی تم اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم