تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 545
کرنے میں مدد دیں اور ایک دوسرے کی تجارتوں کے فروغ میں مدد دیں۔مسلمان عمومًا تجارت میں اس لئے نقصان اٹھاتے ہیں کہ اُن کی تجارتوں کو نہ دوسرے تجار سے مدد ملتی ہے اور نہ گاہکوں سے اس کے بالمقابل ہندو تاجروں کو دونوں طرف سے مدد ملتی ہے اور وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔چھٹا اصل جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اور جس کو مدنظر رکھنا ہر وقت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ(البقرۃ :۱۴۵ )یعنی جس کام میں بھی تم لگے ہوئے ہو تمہارے سامنے صرف ایک ہی مقصد رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ دین کے غلبہ اور ترقی کے لئے تم نے کوشش کرنی ہے۔پس اگر کوئی شخص تجارت کرتا ہے یا صنعت و حرفت اختیار کرتا ہے تو اُسے ہر وقت یہ اصول اپنے سامنے رکھنا چاہیے اس اصول کے ماتحت اگر کوئی شخص اپنی تجارت یا اپنی صنعت کو اسلام کی شوکت اور اس کے غلبہ کا ذریعہ بناتا ہے تو وہ دنیا نہیں کماتا بلکہ دین کماتا ہے خواہ وہ اپنی تجارت اور صنعت کے ذریعہ لاکھوں روپے ہی کیوں نہ کما رہا ہو۔ساتواںحکم قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ ماپ تول اور وزن درست ہونا چاہیے۔تاجروں میں بالعموم یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ جائز طور پر مال کمانے کے علاوہ وہ ماپ اور تول میں ضرور کچھ نہ کچھ کمی کر دیتے ہیں۔پہلے تو وہ صرف ڈنڈی مارا کرتے تھے مگر اب کئی قسم کے بٹے بنائے گئے ہیں۔پہلے بھی جب اسلام میں تجارت کا زور تھا لوگوں میں یہ نقص پیدا ہو گیا تھا چنانچہ پرانی کتب میں بھی ذکر آتا ہے کہ اُس زمانہ میں تین قسم کے بٹے ہوا کرتے تھے۔ایک لینے کے لئے ایک دینے کے لئے اور ایک افسروں کو دکھانے کے لئے۔پس پہلے بھی یہ نقص تھا مگر اس زمانہ میں اس نقص نے بہت بڑی وسعت اختیار کر لی ہے۔اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ تول اور ماپ میں کسی قسم کی کمی نہ کرے۔جب کوئی چیز لے تو تول کر لے اور جب کوئی چیز دے تو تول کردے۔کسی قسم کی دھوکا بازی اور فریب اسلام میں جائز نہیں اور اگر کوئی تاجر یا صناع ایسا کام کرتا ہے تو اس کا کام محض دنیا داری ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب نہیں بلکہ اس کی ناراضگی کو بھڑ کانے کا موجب ہے۔جب وہ اس قسم کے دھوکا کے بعد کوئی مال کما کر اپنے گھر میں لاتا ہے تو وہ حرام مال ہوتا ہے اور وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے چوری اور ڈاکہ سے حاصل کیا ہو ا مال۔چاہے اُس نے اپنی دوکان پر بیٹھ کر ہی وہ کیوں نہ کمایا ہو۔آٹھواں حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ دھوکہ اور فریب اور ملاوٹ جائز نہیں۔بے شک تم تجارت کرو۔مگر تجارت میں یہ دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ نقص بھی ایسا ہے جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ہمارے ملک میں تو یہ مرض اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ کوئی چیز دھوکہ اور ملاوٹ سے نہیں بچی۔گھی فروخت کریں گے تو اس میں چربی یا تیل وغیرہ ملا کر