تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 544
قومی تعاون ہوگا اور اس کے نتیجہ میں بھی وہ بہت بڑے ثواب کے مستحق ہوںگے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو کوئی پیشہ یا ہنر آتا ہے تو اُسے چاہیے کہ اس پیشہ یا ہنر کو اپنے پاس ہی نہ رکھے بلکہ کسی دوسرے کو بھی سکھا دے۔پرانے زمانہ میں لوگوں کو یہ عادت تھی کہ وہ بعض ہنر مخفی رکھتے تھے۔جس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہنر اُن کے ساتھ ہی چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے زخموں کو اچھا کرنے کا ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نسخہ معلوم تھا دُور دُور سے لوگ اس کے پاس علاج کے لئے آتے۔اور فائدہ اٹھاتے۔مگر وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنے بیٹے کو بھی مرہم کا نسخہ نہ بتا تا اور کہتا کہ یہ اتنا بڑا ہنر ہے کہ اس کے جاننے والے دو آدمی ایک وقت میں نہیں ہو سکتے۔بیٹے نے بہتیری منتیں کیں اور کہا کہ مجھے یہ نسخہ آپ بتا دیں مگر وہ یہی جواب دیتا کہ مرتے وقت تمہیں بتائوں گا۔اس سے پہلے نہیں بتا سکتا۔بیٹا کہتا کہ موت کا کوئی پتہ نہیں وہ کس وقت آجائے۔آپ مجھے ابھی یہ نسخہ بتادیں مگر باپ آمادہ نہ ہوا۔آخر ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور سخت نازک حالت ہوگئی۔بیٹا کہنے لگا باپ مجھے اب تو نسخہ بتا دیں مگر وہ جواب دیتا کہ میں مرتا نہیں اچھا ہو جائوں گا۔پھر اور حالت خراب ہوئی۔تو بیٹے نے پھر منتیں کیں مگر اُس نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا تُو سمجھتا ہے میں مرنے لگا ہوں میں تو ابھی نہیں مرتا۔غرض اسی طرح وہ جواب دیتا رہا یہاں تک کہ مر گیا۔اور اُس کا بیٹا جاہل کا جاہل ہی رہا یہ چیز ایسی ہے جسے اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔اسلام کہتا ہے کہ تم علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو بلکہ اُسے وسیع کرو اور دوسرے لوگوں میں بھی پھیلائو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض علم اور بعض پیشے ایسے ہیں جن میں ایک حد تک اور ایک وقت تک اخفاء جائز ہوتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے اخفاء جائز نہیں ہوتا۔یورپ میں ادویہّ کوپیٹنٹ کرانے کا ایک نہایت ہی مفید طریق جاری ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اتحاد کرے تو چالیس سال تک وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہے اس دوران میں ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس کی نقل کرے۔لیکن چالیس سال کے بعد اجازت ہونی چاہیے کہ سب لوگ اُس سے فائدہ اٹھائیں۔یہ ایک بہت ہی اچھا طریق ہے جو یورپ والوں نے ایجاد کیا ہے کہ کچھ وقت موجد کو دے دیتے ہیں کہ وہ اُس میں اپنی ایجاد سے فائدہ اٹھائے اور پھر ساری دنیا میں اس کو پھیلا دیتے ہیں تاکہ اور لوگ بھی اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھالیں۔اسی طرح صناع اور تاجر اگر اپنی صنعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی یہ پیشے سکھا دیں یا ان پیشوں کے سیکھنے میں اُن کی مدد کریں تاکہ دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں بھی صنعت و حرفت اور تجارت کو فروغ حاصل ہو تو یہ بھی ایک رنگ کی زکوٰۃ ہوگی۔جو اُن کی تجارت اور صنعت کو پاک کرنےکا ذریعہ بن جائےگی۔غرض تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى میں تجارتی کمیٹیاں اور صناعوں کی کمیٹیاں بھی شامل ہیں اور اُن کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مال فروخت