تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 546

تیل بیچیں گے تو وہ خالص نہیں ہوگا بلکہ اُس میں بعض اور تیلوں کی ملاوٹ ہوگی۔یہی باقی چیزوں کا حال ہے۔سب میں دھوکا اور فریب سے کام لیا جاتا ہے اور خالص چیز خریداروں کو مہیا نہیں کی جاتی۔یہ نقائص بھی صرف اسی زمانہ میں نہیں بلکہ گذشتہ زمانہ میں بھی یہ نقص پائے جاتے تھے اور انہی کو دُور کرنے کے لئے اسلامی حکومت کی طرف سے محتسب مقرر ہوتے تھے۔پس یہ بھی ایک بہت بڑا نقص ہے جس کو دور کرنا چاہیے۔نواں حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ تم جو مال بنائو یا دوسروں سے خریدو اُسے روک کر نہ رکھ لیا کرو کہ جب مال مہنگا ہوگا اُس وقت ہم فروخت کریںگے۔اگر کوئی تاجر مال کو اس لئے روک کر رکھ لیتا ہے کہ جب مال مہنگا ہو گا اس وقت وہ اُسے فروخت کرکے زیادہ نفع کمائےگا تو اسلام کی رُو سے وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔حدیثوں میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلہ خرید کر اس لیے روک لیتا ہے کہ جب غلہ مہنگا ہوگا تو اس وقت میں اُسے فروخت کروںگا۔تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے(مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب تحریم الاحتکار فی الاقوات) مگر بعض لوگوں نے غلطی سے اس حدیث سے یہ سمجھا ہے کہ یہ حکم صرف غلہ کے متعلق ہے اور چیزوں کے متعلق نہیں حالانکہ تفقہ کے معنے ہی یہی ہوتے ہیں کہ جو حکم کسی خاص موقعہ پر دیا جائے اس کے متعلق دیکھا جائے کہ اس حکم کی غرض کیا تھی۔اور پھر جہاں جہاں وہ غرض پائی جائے اس حکم کو چسپاں کر دیا جائے۔پس گو احتکار کا حکم غلہ کے متعلق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غلہ کے تاجروں کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ غلہ کو اس ارادہ اور نیت سے روک لیتے ہیں کہ جب غلہ مہنگا ہو گا تب فروخت کریںگے تو وہ ناجائز فعل کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن اس سے عام استدلال بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس حکم کی اصل غرض یہ ہے کہ لوگ کسی چیز کو روک کر نہ رکھیں تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔پس جس طرح غلہ روک کر ایک شخص احتکار کرتا اور شریعت کے نزدیک مجرم قرار پاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کپڑے کا تاجر کپڑے کو روک لے اور لوگوں میں فروخت نہ کرے تو وہ بھی ایسا ہی سمجھا جائےگا۔یااگر کوئی لکڑی کو روک لیتا ہے یا لوہے کو روک لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جب یہ چیزیں مہنگی ہوںگی تب میں ان کو فروخت کروں گا تو وہ یقیناً اسلام کے خلاف چلتا ہے۔پس شریعت اسلامی کی رُو سے کوئی ایسی تجارت اور صنعت جائز نہیں جس میں احتکار سے کام لیا گیا ہو یعنی یہ مدنظر رکھا گیا ہو کہ جب چیزیں مہنگی ہوں گی تب ان چیزوں کو ہم فروخت کریں گے۔اس سے پہلے ہم فروخت نہیں کریں گے۔آج کل تاجروں میں خصوصیت سے احتکار پایا جا تا ہے۔اُن کے پاس کپڑا موجود ہوتا ہے مگر وہ انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کپڑا نہیں۔جس سے اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جب کپڑا اور زیادہ مہنگا ہوا تب ہم فروخت کریں گے۔اسی طرح لکڑی موجود ہوتی ہے مگر جب کوئی لکڑی کا خریدار