تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 519
الوہیت ، نبوت اور خلافت کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے تو آخری دو مضمونوں کا تعلق پہلے مضامین سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے جلال الٰہی کے ظہور کے زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الٰہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدہ کے لئے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعًا قرآن کریم پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ خدا کرے ایسی نعمت ہم کو بھی ملے سو وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ کی آیات میں اس خواہش کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا اور بتادیا کہ یہ نعمت تم کو بھی اُسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملی تھی۔غرض ان بیان کردہ معنوں کی رُو سے اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں کا وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کی آیت اور ان کی متعلقہ آیتوں سے ایک ایسا لطیف اور طبعی جوڑ قائم ہو جاتا ہے جو دل کو لذت اور سرور سے بھر دیتا ہے اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ اس مضمون کا پہلی آیتوں سے کیا تعلق ہوا۔یعنی سورۃ نور کے پانچویں رکوع کا اس کے نویں رکوع تک تو خلافت سے جوڑ ہوا۔لیکن جو پہلے چار رکوع ہیں جن میں بدکاری اور بدکاری کے الزامات کا ذکر آتا ہے اُن کا اس سے کیا تعلق ہے جب تک یہ جوڑ بھی نہ ملے اس وقت تک قرآن کریم کی ترتیب پورے طور پر ثابت نہیں ہو سکتی۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ پہلے چار رکوعوں کا باقی پانچ رکوعوں سے جن میں خلافت کا ذکر آتا ہے کیا تعلق ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے چار رکوعوں میں بدکاری کے الزامات کا ذکر اصل مقصود ہے اور اُن میں خصوصًا اس الزام کو رد کرنا مقصود ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگایا گیا تو اس کی اصل غرض کیا تھی۔اس کا سبب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے کوئی تعلق ہو نہ قضاء سے۔نہ عہدوں سے نہ اموال کی تقسیم سے نہ لڑائیوں سے۔نہ مخالف اقوام پر چڑھائیوں سے نہ حکومت سے نہ اقتصادیات سے اُس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہ راست بُغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔یا تو یہ کہ نعوذ باللہ یہ الزام سچا ہو جس کو کوئی مومن ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔خصوصاً اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر سے اس گندے خیال کو رد کیا ہے او ر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ پر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لئے لگا یا گیا ہو۔اب