تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 518
َیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ(النور:۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجا لائے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گویا پہلے تو زنا کے الزامات کا ذکر کیا۔پھر حضرت عائشہ ؓ کا واقعہ بیان کیا۔پھر اُن الزامات کے الزالہ کے طریقوں کا ذکر کیا پھر اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کا مضمون بیان کیا اور پھر کہہ دیا کہ میرا یہ وعدہ ہے کہ جو مومن ہو ںگے انہیں میں اس اُمت میں اسی طرح خلیفہ بنائوں گا جس طرح پہلے لوگو ں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے دین کو دنیا میں قائم کروںگا اور اُن کے خوف کو امن سے بد ل دوںگا۔وہ میری عبادت کریںگے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جوان خلفاء کا منکر ہو گا وہ فاسق ہوگا۔پس لازمًا یہ سوال ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر ہے پھر اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کا ذکر کیا اور پھر خلافت کا ذکر کر دیا۔ان تینوں باتوں کا آپس میں جوڑ ہونا چاہیے ورنہ یہ سمجھا جائےگا کہ قرآن کریم نعوذ با للہ بے جوڑ باتوں کا مجموعہ ہے۔اور اس کے مضامین میں ایک عالم اور حکیم ہستی والا ربط اور رشتہ نہیں ہے۔ا س جگہ ضمنی طور پر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں دوسروں پر الزام لگانے والوں کا ذکر ہے وہاں الزام لگانے والوں کے متعلق فرمایا ہے کہ وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (النور:۵)کہ وہ لوگ جو بے گناہ عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر ایک موقعہ کے چار گواہ نہیں لاتے تم اُن کو اسّی کوڑے مارو۔اور تم ان کی موت تک اُن کو جھوٹا سمجھو اور اُن کی شہادت کو کبھی قبول نہ کرو۔وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ اور یہی وہ لوگ ہیں جوخدا تعالیٰ کے نزدیک فاسق ہیں۔پھر اسی سورۃ میں جہاں خلفاء کا ذکر کیا وہاں بھی یہی الفاظ رکھے اور فرمایا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَکہ جو شخص خلفاء کا ا نکار کرے وہ فاسق ہے۔اب جو الفاظ زنا کا الزام لگانے والوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے رکھے تھے اور جو نام اُن کا تجویز کیا تھا وہی نام خدا تعالیٰ نے خلافت کے منکرین کا رکھا اور قریبًا اسی قسم کے الفاظ اس جگہ استعمال کئے وہاں یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ بدکاری کا الزام لگاتے اور پھر چارگواہ ایک موقعہ کے نہیں لاتے انہیں اسّی کوڑے مارو۔انہیں ساری عمر جھوٹا سمجھو اور سمجھ لو کہ یہ لوگ فاسق ہیں۔اور یہاں بھی یہ فرمایا کہ جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے سمجھ لو کہ وہ فاسق ہے۔غرض جو شخص قرآن کریم کو ایک حکیم ہستی کی کتاب سمجھتا ہے اور اس کے اعلیٰ درجہ کے باربط اور ہم رشتہ مضمونوں کے کمالات دیکھنے کا اُسے موقعہ ملا ہے اُس کے دل میں لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں باتوں کا آپس میں جوڑ کیا ہے۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اگر اس مضمون پر غور کیا جائے جو میں نے اوپر بتا یا ہے اور جو یہ ہے کہ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں