تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 520

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے یا اُن کے سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ایک ادنیٰ تدبیر سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے او ر ایک حضرت ابوبکر ؓ سے۔کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی لحاظ سے یا دشمنیوں کے لحاظ سے بعض لوگوں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی یا بعض لوگوں کی اغراض اُن کو بدنام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ورنہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہو سکتا تھا اور یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شائد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہ ؓکو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کے لئے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے جس بیوی کو میں اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کیا کرتی تھی وہ حضرت زینب بنت حجش ؓ تھیں۔ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنا رقیب خیال نہیں کرتی تھی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب ؓ کے اس احسان کو کبھی بھول نہیں سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگا یا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کی تردید کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینب ؓ ہی تھیں۔( السیرۃ الحلبیۃ غزوة بنی المصطلق ) پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو ان کی سوتوں کو ہی ہو سکتی تھی اور وہ اگر چاہتیں تو اس میں حصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گِر جائیں اور اُن کی عزت بڑھ جائے۔مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں دیا اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اس نے حضرت عائشہ ؓ کی تعریف ہی کی۔غرض مردوں کی عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس آپ پر الزام یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا پھر حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ؓ ہی ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگا دیاتا حضرت عائشہ ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گِر جائیں اور اُن کے گِرجانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر ؓ کو