تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 515

اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ سورۃ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا اور فرمایا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا میں نے ایک آگ دیکھی ہے اس فقر ہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔پس اٰنَسْتُ نَارًا میں یہ بتا یا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا میں بطور نار کے ہوتا ہے۔یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اُسے دیکھ سکتا ہے لیکن جب وہ نبی کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہو جاتا ہے۔یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی بہت تیز ہو جاتی ہے۔پھر نبوت میں یہ نور آکر مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود ہو تا ہے کیونکہ نبی بھی موت سے محفوظ نہیں ہوتے۔پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کے لئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی سو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک ری فلیکٹر بنایا۔جس کا نام خلافت ہے جس طرح طاقچہ تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح خلفاء نبی کی قوتِ قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ماتحت استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہوتی تو بعض کاموں پر تو زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا روپیہ اوراس کا علم اور اس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے الٰہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے مکمل ہوتا ہے ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو الٰہی نور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوگیا بلکہ حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کے طاقچہ کے ذریعہ اس کی مدت کو سوا دو سال اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت ابوبکر ؓ کی وفات کے بعد وہی نور خلافتِ عمر ؓ کے طاق کے اندر رکھ دیا گیا اور ساڑھے دس سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عمر ؓ کی وفات کے بعد وہی نور عثمانی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور بارہ سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عثمان ؓ کی وفات کے بعد وہی نور علوی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور چار سال نو ماہ اُس نور کو اور لمبا کر دیا گیا۔گویا تیس سال الٰہی نور خلافت کے ذریعہ لمبا ہو گیا۔پھر ناقص خلافتوں کے ذریعہ سے تو یہی نور چار سو سال تک سپین اور بغداد میں ظاہر ہوتا رہا۔غرض جس طرح ٹارچوں کے اندر ری فلیکٹر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بلب کی روشنی دُور دُور تک پھیل جاتی ہے یا چھوٹے چھوٹے ری فلیکٹر بعض دفعہ تھوڑا سا خم دیکر بنائے جاتے ہیں جیسے دیوار گیروں کے پیچھے ایک ٹین لگا ہوا ہوتا ہے جو دیوار گیر کا ری فلیکٹر کہلاتا ہے اور گو اس کے ذریعہ روشنی اتنی تیز نہیں ہوتی