تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 514

کرنے کے لئے جلائے جاتے ہیں ان کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ان کی روشنی تیز کرنے کے لئے ان کے پیچھے ایک اس قسم کی چیز لگا دی جاتی ہے جو روشنی کو آگے کی طرف پھینکتی ہے۔پرانے زمانوں میں لوگ اس غرض کے لئے لمپ کو طاقچہ میں رکھ دیا کرتے تھے اور اس زمانہ میں اس کی ایک مثال ٹارچ ہے۔ٹارچ پیچھے سے لمبی چلی آتی ہے اور اس کے آگے اس پر ایک نسبتًا بڑا خول چڑھا دیتے ہیں جو بلب کے تین طرف دائرہ کی شکل میں پھیلا ہوا ہوتا ہے اور اس میں ایک چمکدار دھات لگی ہوئی ہوتی ہے جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ روشنی کو آگے کی طرف پھیلا دے اگر اس خول کو اتار لیا جائے تو ٹارچ کی روشنی دس پندرہ گز تک رہ جاتی ہے۔لیکن اس خول کے ساتھ وہی روشنی بعض دفعہ پانچ سو گز بعض دفعہ ہزار گز اور بعض دفعہ دو دو ہزار گز تک پھیل جاتی ہے۔یہ روشنی کو دُور پھینکنے والا جو خول ہوتا ہے اُسے انگریزی میں ری فلیکٹرکہتے ہیںاور بڑی بڑی طاقت کے لمپ توری فلیکٹر کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ دور تک روشنی پہنچا دیتے ہیں اس طرح روشنی مکمل ہو جاتی ہے اور لوگ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔غرض یہ تین چیزیں ہیں جن سے نور مکمل ہو تا ہے اُن میں سے ایک تو شعلہ ہے جو اصل آگ ہے۔اور جس کے بغیر کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا۔روحانی دنیا میں وہ شعلہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور چمنی جس سے وہ نور روشن ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔یوں تو دنیا کے ہر ذرہ سے خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہے مگر وہ نور لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ہاں جب خدا تعالیٰ کا نبی آتا ہے۔اور اُسے اپنے ہاتھوں میں لے کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تب ہر شخص کو وہ نور نظر آنے لگ جاتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طر ح بتی جلائی جائے تو ہوا کا ذرا سا جھونکا بھی اُسے بجھا دیتا ہے۔مگر جونہی اس پر شیشہ رکھ دیا جاتا ہے سب اندھیرا دُور ہو جاتا ہے تاریکی مٹ جاتی ہے اور وہی نور آنکھوں کے کام آنے لگ جاتا ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ اصل چیز شیشہ ہے اصل چیز تو وہ نور ہی ہے جو بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے۔مگر چونکہ وہ نور دھوئیں کی شکل میں ضائع ہو رہا ہوتا ہے اس لئے لوگ اس سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھا سکتے جب تک اس پر شیشہ نہیں چڑھایا جاتا۔ہاں جب شیشہ چڑ ھ جاتا ہے تو وہی نور جو پہلے ضائع ہو رہا ہوتا ہے ضائع ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پھر چمنی سے مل کر پہلے نور سے بیس گنے سو گنے دوسو گنے ہزار گنے بلکہ دوہزار گنے زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔یہ شیشے اور گلوب دراصل انبیاء کے وجود ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے اس نور کو جو قدرت میںہر جگہ پایا جاتا ہے لیتے ہیں اور اپنے گلوب اور چمنی کے نیچے رکھ کر اُس کا ہر حصہ انسانوں کے استعمال کے قابل بنا دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس نور کو دیکھنے لگ جاتی ہے۔اس کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے لگ جاتی ہے۔