تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 516

جتنی ٹارچ کے ری فلیکٹر کے ذریعہ تیز ہوتی ہے مگر پھر بھی دیوار گیر کی روشنی اس ری فلیکٹر کی وجہ سے پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح خلافت وہ ری فلیکٹر ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کو لمبا کر دیتا ہے اور اسے دُور تک پھیلا دیتا ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت نبوت اور الوہیت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے نور کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ وہ ایک نور ہے جو دنیا کے ہر ذرہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔مگر جب تک وہ نبوت کے شیشہ میں نہ آئے لوگ اُس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔جیسے نیچر پر غور کرکے اللہ تعالیٰ کی ہستی معلوم کرنےکا شوق رکھنے والے ہمیشہ ٹھو کریں کھاتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ( اٰل عمران :۱۹۱) بالکل درست ہے اور زمین اور آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی آیات پائی جاتی ہیں مگر یہی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یورپ کے فلاسفروں کو دہریہ بنا رہی ہے۔گویا خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں اللہ تعالیٰ کا جو نور ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ۔یہ شعلہ جب نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دھوآں بھی اٹھتا ہے جو بعض دفعہ نزلہ پیدا کردیتا ہے اور آنکھوں کو بھی خراب کرتا ہے۔وہ دھوآں تب ہی دُور ہوتا ہے جب اُس پر نبوت کی چمنی یا گلوب رکھ کر اُسے روشنی کی صورت میں تبدیل کر دیا جائے اگر اس کے بغیر کوئی اس شعلہ سے نور کاکام لینا چاہے تو اُسے کچھ نور ملے گا اور کچھ دھوآں ملےگا جو اس کی آنکھوں اور ناک کو تکلیف دے گا۔چنانچہ اسی وجہ سے جو شخص نیچر پر غور کرکے خدا تعالیٰ کو پانا چاہتا ہے وہ کئی دفعہ ٹھوکریں کھاتا ہے اور بعض دفعہ تو خدا تعالیٰ کو پانے کی بجائے دہریہ ہو جاتا ہے۔مگر جو شخص خدا تعالیٰ کے وجود کو نبوت کی چمنی کی مدد سے دیکھنا چاہتا ہے اس کی آنکھیں اور اس کا ناک دھوئیں کے ضرر سے بالکل محفوظ رہتے ہیں۔اور وہ ایک نہایت لطیف اور خوش کن روشنی پاتا ہے جو سب کثافتوں سے پاک ہوتی ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے اس حقیقت کی طرف اپنے اس شعر میں اشارہ فرمایا ہے۔؎ فلسفی کز عقل مے جوئد ترا دیوانہ است دُور تراست ازخرد ہا آں رہِ پنہانِ تو (چشمہ مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۹۱) ٍ غرض کائنات ِعالم پر غور کرکے خدا تعالیٰ کا وجود پانے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے کچھ ابتلاء رکھے ہیں کچھ شکوک رکھے ہیں کچھ شبہات رکھے ہیں تا وہ مجبور ہو کر نبوت کی چمنی اُس نور پر رکھیں چنانچہ جب بھی الٰہی نور پر نبوت کی چمنی رکھی جاتی ہے۔اُس نور کی حالت یکدم بدل جاتی ہے اور یا تو وہ بو دینے والا دھوآں نظر آرہا ہوتا ہے اور یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نور ہی نور ہے او ر اس میں دھوئیں کا نشان تک نہیں۔پھر جب اس روشنی کو اٹھا کر ہم طاقچہ میں رکھ