تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 513
یہ ایک عجیب بات ہے کہ باوجود یہ کہ قرآن کریم ایسے زمانہ میں نازل ہوا جبکہ سائینس ابھی کمال کو نہیں پہنچی تھی اور ایسے ملک میں نازل ہوا جہاں کے لوگ تہذیب و تمدن سے بھی ناآشنا سمجھے جاتے تھے اور ایسے انسان پر نازل ہوا جو اُمّی تھا۔پھر بھی روشنی کے کمال کو جس عجیب طرز سے ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیسویں صدی کا سائینس دان روشنی کی حقیقت بیان کر رہا ہے۔مشکٰوۃ جس طرح اس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوا ر میں بنایا جاتا ہے اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا اسی طرح مصباح اُس شعلہ کو کہتے ہیں جو بتی میں سے نکلتا ہے یا بلب کی وہ تاریں سمجھ لو جن سے بجلی کی روشنی پیدا ہوتی ہے بشرطیکہ وہ روشن ہوں۔مصباح کے معنے دراصل صبح کردینے والا آلہ کے ہیں اور اس لحاظ سے ہر وہ چیز جس سے بہت تیز روشنی ہوتی ہو اُسے مصباح کہا جاتا ہے اور چونکہ وہ بتی کا گُل ہی ہوتا ہے جو روشن ہوتا ہے یا بجلی کی وہ تاریں ہوتی ہیں جو بلب کے اندر ہوتی ہیں اور چمکتی ہیں اس لئے عربی زبان میں انہیں مصباح کہتے ہیں۔گویا وہ شعلہ جو آگ لگنے کے بعد بتی میں سے نکلتا ہے یا بجلی کی وہ تار جہاں بجلی پہنچتی ہے تو وہ یکدم روشن ہو جاتا ہے۔وہ مصباح کہلاتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی سی ہے جس میں ایک بتی جل رہی ہو اور پھر وہ بتی ایک زجاجہ میں ہو۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہری کین روشن کرنے کے لئے جب کوئی شخص دیا سلائی جلاتا اور بتی کو لگاتا ہے تو اس وقت بتی کی روشنی کی کیا حالت ہوتی ہے ایک زرد سا شعلہ بتی میں سے نکل رہا ہوتاہے اور اُس کا دھوآں اُٹھ اُٹھ کر کمرہ میں پھیل رہا ہوتا ہے۔نازک مزاج اشخاص کے دماغ میں وہ دھوآں چڑھتا ہے تو انہیں چھینکیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔بعض کو نزلہ ہو جاتا ہے لیکن جونہی بتی میں سے دھوآں نکلتا اور کمرے میں پھیلنے لگتاہے انسان جلدی سے چمنی پر ہاتھ مارتا اور ہر ی کین کا ہینڈل دباکر اُسے بتی پر چڑھا دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسی وقت دھوآں جاتا رہتا ہے اور اس شعلہ کا رنگ ہی بدل جاتا ہے اور پہلی روشنی سے بعض دفعہ بیس گُنے بعض دفعہ تیس گنے بعض دفعہ پچاس گنے بعض دفعہ سو گنے اور بعض دفعہ دو سو یا ہزار گنے تیز روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔اور تمام کمرہ روشن ہو جاتا ہے۔پھر زائد بات اس چمنی یا گلوب کی وجہ سے یہ پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ بتی بجھتی نہیں۔تیز بارشوں کے ایّام میں رات کے وقت لوگ ہری کین لے کر باہر چلے جاتے ہیں۔آندھی آرہی ہوتی ہے طوفان اُٹھ رہا ہوتا ہے۔چھتیں ہل رہی ہوتی ہیں۔عمارتیں کانپ رہی ہوتی ہیں۔پیر لڑکھڑا رہے ہوتے ہیں مگر وہ روشنی جو انسان ہاتھ میں اُٹھائے ہوئے ہوتا ہے نہیں بجھتی کیونکہ اس کی چمنی اس کے ماحول کو محفوظ کر دیتی ہے اور نہ صرف اس کی روشنی کو کئی گنا زیاد ہ کر دیتی ہے بلکہ اُسے بجھنے سے بھی محفوظ کر دیتی ہے۔مگر بعض لمپ ہر ی کین سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔اور جو بڑے بڑے لمپ کمروں کو روشن