تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 497

طرح نہیں بڑھ سکتا۔جب لڑکی میں نسائیت پیدا ہونے لگے اس وقت اُسے پردہ کرانا چاہیے اس سے پہلے نہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ عورت کو کیوں پردہ کے لئے کہا گیا ہے مرد کو کیوں نہیں کہا گیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ پردہ مرد او ر عورت دونوں کے لئے برابر ہے۔اگر عورت کو چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ پردہ کا حکم صرف اُسی کے لئے ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرد کا دائرہ عمل گھر سے باہر ہے اور عورت کا اصل دائرہ ٔ عمل گھر کی چار دیواری ہے۔پس جب عورت مرد کے اصل دائرہ عمل میں جاتی ہے وہ چادر اوڑھ لیتی ہے اور مرد چونکہ اپنے اصل دائرہ عمل میں ہوتا ہے وہ کھلا پھرتا ہے۔اگر اس کو اپنے دائرہ عمل میں چادر اوڑھنے کا حکم دیا جاتا تو چونکہ اس کا وہاں ہر وقت کام ہوتا ہے اُس کے لئے کام کرنا مشکل ہو جاتا۔جس طرح اگر عورت کو اُس کے دائرہ عمل یعنی گھر کی چاردیواری میں چادر اوڑھ کر کام کرنےکا حکم دیا جائے تو وہ گھبرا جائےاور کام نہ کر سکے۔اس فرق کے مقابلہ میں مرد کو یہ حکم ہے کہ وہ عورت کے دائرہ عمل میں بالکل ہی نہ جائے اور اس کو آزاد ی سے اپنا کام کرنے دے۔اور اگر کسی کے گھر جائے تو پہلے اجازت لے لے۔لیکن عورت کو باہر نکلنے پر مردوں سے اجازت لینے کا حکم نہیں کیونکہ مرد کے دائرہ عمل میں عورت کے بھی حقوق ہیں اور وہ سڑکوں اور بازاروں سے بے تعلق نہیں۔لیکن عورت کے دائرہ عمل سے عام مرد کے حقوق وابستہ نہیں۔پس عورت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں رکھی بلکہ صرف اوٹ کر لینا اور اوڑھنی سے پردہ کر لینا کافی رکھا اور عورت کے دائرہ عمل میں مرد کے بلا اجازت داخلہ کو روک دیا۔پس پرد ہ میں ہتک یا غیر ہتک کا کوئی سوال نہیں بلکہ یہ مرد او ر عورت کے دائرہ عمل کی الگ الگ تقسیم ہے اور اس کی مخالفت صرف عادات اور رسوم کی وجہ سے ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پردہ کی وجہ سے عورتیں ترقی نہیں کر سکتیں ان کی صحت خراب رہتی ہے۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔وہ عورتیں جو بالکل بے پردہ پھرتی ہیں وہ کیا کر رہی ہیں جو پردہ کرنے والی نہیں کر سکتیں۔جس وقت عورتیں اسلام کے احکام کے مطابق پردہ کرتی تھیں اُس وقت ان کی صحتیں بھی اچھی تھیں۔اور وہ جنگوں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔اور دشمن کو مارتی بھی تھیں مگر اب بے نقاب پھرنے والی عورتیں کچھ بھی نہیں کر رہیں۔دراصل صحت امید اور اُمنگ سے قائم رہتی ہے جب کسی میں اُمنگ ہی نہ ہو تو چاہے اُسے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا کر دو وہ نیچے ہی گرےگا اور اگر امنگ اور امید ہو تو خواہ لحاف اُڑھا دوپھر بھی وہ بلند ہوتا چلا جائےگا۔چنانچہ میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ عورتوں کا پردہ شریعت کے مطابق ہو اور میرے زمانۂ خلافت میں قادیان میں بھی اور ربوہ میں بھی تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد ہمیشہ غیر تعلیم یافتہ عورتوں سے زیادہ رہی ہے لیکن تعلیم یافتہ مردوں کی تعداد غیر تعلیم یافتہ مردوں کے برابر