تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 496

سے کپڑا اُٹھا دینا یا مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور اُدھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور اُن کا مردوں سے بے تکلفی کے ساتھ غیر ضروری باتیں کرنا یہ ناجائز ہے۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنا نا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے۔پھر فطرتِ انسانی بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ مرد جو مضبوط ہے اُسے تو صحت کے درست رکھنے کے لئے باہر کی آب و ہوا کی ضرورت ہو اور عورت جو فطرتًا کمزور صحت لےکر آئی ہے اُسے کھلی ہوا سے محروم کر دیا جائے۔حدیثوں سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک دفعہ لوگوں کے سامنے مقابلۃً دوڑے اور حضرت عائشہ ؓ آگے بڑھ گئیں۔مگر دوسرے موقعہ پر پھر دوڑے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے (ابوداؤد کتاب الجھاد باب فی السبق علی الرجل)۔پس وہ پردہ جس میں عورت کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ڈولی کے بغیر گھر سے باہر قدم بھی نہ رکھے نہایت ظالمانہ اور خلافِ اسلام پردہ تھا۔اس کے مقابلہ میں ایک اور پردہ ہمارے ملک میں یہ ہے کہ عورتیں برقعہ پہن کر باہر نکلتی ہیں اور ایک گھر سے دوسرے گھر تک چلی جاتی ہیں لیکن اس سے زیادہ ان کوباہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔یہ پردہ گو اوپر کے پردہ کے برابر قابلِ اعتراض نہیں لیکن اس سے بھی عورتوں کے ذہنی ارتقاء اور اُن کی صحت کی ترقی میں ایسی مدد نہیں ملتی کہ اُسے قومی ترقی کے لئے کافی سمجھا جائے۔دوسرے ہمارا پرانا برقعہ یا تو عورت کی صحت کو بر باد کرنے والا ہے یا پردے کے نام سے بے پردگی کا موجب ہوتا ہے۔اس برقعہ میں اوپر سے لے کر نیچے تک ایک گنبد سا بنا ہوا چلاجاتا ہے اور عورت کے ہاتھ بھی اندر بند ہوتے ہیں اگر وہ بچے کو اٹھائے تو سر سے پائوں تک اس کا اگلا حصہ سارے کا سارا ننگا ہوجا تا ہے اور ایک ایسا حقارت پیدا کرنے والا نظارہ ہوتا ہے کہ ایسے پردے سے طبیعت خود بخود نفرت کرتی ہے۔اس سے بہت زیادہ بہتر وہ چادر کا طریق تھا جو برقعہ کی ایجاد سے پہلے تھا۔اور جس میں عورت اپنا کام بھی کر سکتی تھی اور اپنے آپ کو لپیٹ بھی سکتی تھی۔میرے نزدیک نیا برقعہ جسے ٹرکی برقعہ کہتے ہیں پردے کے لحاظ سے تمام برقعوں سے بہتر ہے بشرطیکہ وہ جسم کے اوپر لپٹا ہوا نہ ہو بلکہ جیسا کہ ہماری جماعت کی عورتوں میں رواج ہے سیدھا کوٹ ہو جو کندھوں سے پائوں تک آتا ہو۔ایسا کوٹ نہ ہو جو جسم کے اعضاء کو الگ الگ کر کے دکھا تا ہو۔اگر اس قسم کا کپڑا جائز ہوتا تو جسم کے کپڑے ہی کافی تھے اُن کے اوپر کسی اور کھلے کپڑے کے لینے کا قرآن مجید حکم نہ دیتا۔اس برقعہ میں یہ بھی فائدہ ہے کہ چونکہ ہاتھ کھلے ہوتے ہیں عورت سب قسم کے کام اس برقعہ میں بخوبی کرسکتی ہے اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے ڈاکٹر اپریشن کے وقت ایک کھلا کوٹ پہن لیتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی میرے نزدیک یہ بھی ظلم کیا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو برقعہ اوڑھا دیا جا تا ہے اس سے اُن کی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور اُن کا قد بھی اچھی