تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 498

کبھی نہیں ہو سکی۔اسی طرح لجنہ کا کام وہ بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہیں۔مختلف گھروں میں جاتی ہیں چندہ وصول کر تی ہیں۔دوسرے لوگوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ دوسرے شہروں میں بھی جاتی ہیں پس یہ بالکل غلط ہے کہ پردہ عورتوں کی ترقی میں حائل ہے۔عورتیں پردہ میں رہتے ہوئے بھی ہر قسم کی ترقی کرسکتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتیں تعلیم یافتہ ہوں اور وہ خود شرعی پردہ پر عمل کریں اور دوسری عورتوں کو بھی بتائیں کہ پردہ کی پابندی کرتے ہوئے ہر قسم کی ترقی کی جاسکتی ہے۔صرف مردوں کے کہنے کا زیادہ اثر نہیں ہوتا کیونکہ عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ تم تو باہر پھرتے ہو تمہیں کیا معلوم ہے کہ پردہ کی کیا تکا لیف ہیں۔وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اور اپنے میں سے جو بیوائیں ہیں اور جو اپنے غلاموں یا اِمَآىِٕكُمْ١ؕ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ لونڈیوں میں سے نیک ہوں اُن کی شادیاں کر دیا کرو۔اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی بنا دےگا۔وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۰۰۳۳ اور اللہ (تعالیٰ) بہت وسعت رکھنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْاَیَامٰی۔اَلْاَیَامٰی اَیِّمٌکی جمع ہے۔اور اَیِّمٌ اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی خاوند نہ ہو۔اسی طرح اس مرد کو بھی اَیِّمٌ کہتے ہیں جس کی کوئی بیوی نہ ہو۔(مفردات ) تفسیر۔اس آیت میں حکم دیا کہ بدی کو دور کرنے کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ بیوائوں کی شاد ی کرو۔اسی طرح جو غلام بیویاں رکھنے کے قابل ہوں اُن کی بھی شادیاں کرو تاکہ بے شادی غلام گھروں میں آکر خرابی نہ کریں اسی طرح اپنی لونڈیوں کی بھی شادی کرو۔اور اگر تمہارے غلاموں میں سے بعض غریب ہوں تو اُن کا نکاح کرنے سے ڈرو نہیں کیونکہ اگر وہ نیک بنیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دےگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس رزق بھی ہے اور وہ اپنے بندوں کے حالات کو بھی جانتا ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں جہاں اور بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہاں ایک یہ خرابی بھی پائی جاتی ہے