تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 495

کے سامنے پہلے بھی توپیں چلتی رہتیں اور وہ فنونِ جنگ کو دیکھنے کی عادی ہوتی تو وہ یہ بہانہ نہیں بنا سکتی تھی۔بادشاہ کہہ سکتا تھا کہ جب پہلے بھی تم ان کی آوازیں سنتی رہی تو آج کس طرح بے ہوش ہو سکتی ہو۔اسی طرح اگر بادشاہ خود فنونِ جنگ کا ماہر ہوتا اور اُس کی عمر اس قسم کے کاموں میں بسر ہوئی ہوتی اور وہ جنگ اور اس کے نتائج سے آگاہ ہوتا تو وہ ایک عورت کی بات کو کیوں مانتا۔مگر خود جنگی فنون سے ناواقف ہو نے اور پھر عورتوں کو فنونِ حرب سے الگ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ زینت محل نے بادشاہ کو دھوکا دے دیا۔لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوئی جنگی منظر دیکھ کر یہ ہر گز نہیں کہہ سکتی تھیں کہ میرا دل گھٹتا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگی فنون دکھائے اور پھر جنگ میں ہمیشہ کسی نہ کسی بیوی کو بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ ان کے اندر بھی جرأت اور بہادری پیدا ہو۔پس اسلامی تعلیم کے ماتحت پردے کے قواعد کو مدّنظر رکھتے ہوئے عورت ہر قسم کے کاموں میں مردوں کے شریک حال ہو سکتی ہے۔وہ مردوں سے پڑھ سکتی ہے اُن کا لیکچر سن سکتی ہے اور اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کر نی پڑے جو مرد نہیں کر سکتا تو عورت تقریر بھی کر سکتی ہے۔مجالسِ وعظ اور لیکچروں میں مردوں سے الگ ہو کر بیٹھ سکتی ہے۔ضرورت کے موقعہ پر اپنی رائے بیان کر سکتی ہے اور بحث کر سکتی ہے کیونکہ ایسے امور جن میں عورتوں کا دخل ہو اُن امور میں عورتوں کا مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح عورت ضرورت کے ماتحت مرد کے ساتھ مل کر بھی بیٹھ سکتی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک نوجوان لڑکی کو جو پید ل جارہی تھی اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔( مسند احمد بن حنبل حدیث امراة بنی غفار) ہمارے ملکی رواج کے مطابق تو اگر کوئی شخص ایسا کرے تو شاید ساری قوم اس کا بائیکاٹ کر دے لیکن شریعت کے احکام آج سے تیرہ سو سال پہلے مل چکے ہیں۔ان میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر عورتوں کی گاڑیوں میں کبھی کوئی خطرہ ہو تو مردوں کا فرض ہے کہ عورتوں کو اپنے پاس مردانہ گاڑیوں میں بٹھالیں۔یا عورت اکیلی خود مردانہ گاڑی میں جا بیٹھے جہاں وہ شریف مردوں کی موجود گی میں اپنی عزت کو بہ نسبت اکیلے کمرہ میں بیٹھنے کے زیادہ محفوظ سمجھتی ہو۔اسی طرح اگر کوئی خطرہ نہ ہو تو عورتیں خود سودا خرید نے کے لئے بازاروں میں بھی جاسکتی ہیں۔عرب میں میں نے دیکھا ہے کہ وہاں عورتیں خود بازاروں میں جاتیں اور چیزیں خرید تی تھیں۔بلکہ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ ہماری خریدی ہوئی چیزیں عورتوں کو پسند بھی نہیں آتیں۔وہ کہتی ہیں کہ مرد کیا جانیں کہ کپڑا کیسا ہونا چاہیے۔یا اور چیزوں کے متعلق انہیں کیا واقفیت ہو سکتی ہے ہم خود جا کر خریدیں گی۔جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھوں سے راستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ