تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 46

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا اور تجھ سے پہلے جو رسول گذرے ہیں ان سے بھی ہنسی کی گئی تھی لیکن نتیجہ یہ ہو ا کہ جنہوں نے ان رسولوںسے مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ؒ۰۰۴۲ ہنسی کی تھی ان کو انہی باتوں نے آکر گھیر لیا جن کے ذریعہ سے وہ نبیوں کی ہنسی اڑاتے تھے۔حلّ لُغَات۔حاق حَاقَ بِہٖ کے معنے ہیں اَحَاطَ اس کو گھیر لیا۔(اقرب) تفسیر۔اور یہ تجھ سے مذاق کرتے ہیں یہ کو ئی نئی بات نہیںپہلے رسولوں سے بھی ایسا ہی ہوتاچلا آیاہے لیکن آخر انجام مخا لفوں کا ہی برا ہوا ہے اوران کے ٹھٹھے کا وبال انہی پر عذاب کی صورت میںپڑا ہے۔اگر تیرے مخالفوں کاانجام بھی برا ہوا تو یہ اس بات کاثبوت ہوگا کہ تو ہمارا سچارسول ہے اور یہ لوگ جھوٹے ہیں۔قُلْ مَنْ يَّكْلَؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ تو کہہ دے کہ رات یادن کے وقت رحمٰن خدا کی گرفت سے تم کو کون بچاسکتاہے ؟ لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ) هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ۰۰۴۳ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کررہے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَکْلَؤُ۔یَکْلَؤُکَلَأَسے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اورکَلَأَہُ اللہُ کے معنے ہیںحَفِظَہٗ وَحَرَسَہٗ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور نگہبانی کی (اقرب)پس یَکْلَأُ کے معنے ہیں حفاظت کرتاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تمہاری رات اوردن میںکئی قسم کی مشکلات اور مصائب پیدا ہوتے ہیں بعض مصائب رات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور بعض دن کے ساتھ مگر کوئی پوشیدہ ہستی ان کو ٹلاتی چلی جاتی ہے اور تمہاری حفاظت کر تی ہے۔آخر یہ رحمٰن کے سواکون ہستی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کئی قسم کی وبائیں اور بلائیںہیںجو رات کی وجہ سے پید اہوتی ہیںاور کئی قسم کی وبائیںاور بلائیںہیںجو د ن کی وجہ سے پید اہوتی ہیںان بلائوںاور آفتوں اور بیماریوں اور عذابوںکو جانتے تو سائینس والے